رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی اعانت سے پاکستانی آم کی برآمد میں اضافہ


امریکی سفیر اولسن نے کہا کہ اس اعانت سے پاکستانی آم کی فروخت میں لگ بھگ اڑھائی کروڑ ڈالرز کا اضافہ ہوا اور بین الاقوامی منڈی میں اس کی برآمد پانچ گنا بڑھ گئی۔

پاکستان میں آم کے پیداواری شعبے میں امریکی اعانت سے قابل ذکر پیش رفت ہوئی جس سے اس پھل کی عالمی منڈیوں میں برآمد میں پانچ گنا اضافہ بھی ہوا۔

پیر کو اسلام آباد میں سالانہ مینگو کانفرنس برائے سال 2013 کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں امریکی سفیر رچرڈ اولسن کا کہنا تھا کہ ان کا ملک پاکستان میں اس شعبے کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری لانے، منڈیوں میں نئے مواقع تلاش اور بین الاقوامی توثیق کے لیے آم کے پاکستانی کاشتکاروں کو مدد فاہم کر رہا ہے۔

ان کے بقول اس اعانت سے پاکستانی آم کی فروخت میں لگ بھگ اڑھائی کروڑ ڈالرز کا اضافہ ہوا اور بین الاقوامی منڈی میں اس کی برآمد پانچ گنا بڑھ گئی۔

امریکی سفارتخانے سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی ’یو ایس ایڈ‘ کے ذریعے آم کی پیداوار بڑھانے اور عالمی منڈیوں کو اس کی برآمد کے لیے اعانت فراہم کی گئی جس سے فارموں سے حاصل ہونےوالی آمدنی میں 75 فیصد اضافہ اور روزگار کے سینکڑوں مواقع پیدا ہوئے۔

اس کانفرنس میں پاکستان کے سیکرٹری تجارت قاسم نیاز بھی موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا ملک امریکہ سے ایسے تعلقات قائم کرنے کا منتظر ہے جن کی بنیاد تجارت پر ہو، نہ کہ صرف امداد پر۔

بیان کے مطابق یو ایس ایڈ کا فارمز پروگرام اشد ضروری بنیادی ڈھانچے کے لیے اعانت اور کسانوں کو اپنی پیداوار عالمی سطح پر فروخت کرنے میں مدد فراہم کرکے پاکستان میں آم کے شعبے میں 58 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے۔

چھوٹے اور درمیانے درجے کے فارموں نے بھی تازہ اور خشک آموں کے کاروبار کو تجارتی حوالے سے قابل عمل بنانے کے لیے یو ایس ایڈ کے ساتھ مل کر کام کرنے پر 16 لاکھ ڈالر سرمایہ کاری کی۔
XS
SM
MD
LG