رسائی کے لنکس

logo-print

خیبر پختونخواہ: انتخابی امیدواروں پر بم حملے، کم ازکم آٹھ ہلاک


کوہاٹ اور چارسدہ میں قومی اسمبلی کی نشستوں کے لیے آزاد امیدواروں کے دفاتر کو نشانہ بنایا گیا۔

پاکستان کےانتخابات سے قبل دہشت گردی کی لہر میں تیزی دیکھنے میں آرہی ہے اور شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ میں بھی اتوار کی صبح انتخابی امیدواروں کے دفاتر پر ہونے والے بم حملوں میں کم ازکم آٹھ افراد ہلاک اور دو درجن سے زائد زخمی ہوگئے۔

پہلا دھماکا کوہاٹ میں ہنگو روڈ پر واقع کچا پکا کے علاقے میں آزاد امیدوار سید نور اکبر کے دفتر کے باہر ہوا جس میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور 16 زخمی ہوگئے۔

نور اکبر اورکزئی ایجنسی سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 39 سے امیدوار ہیں۔ دھماکے سے ان کے دفتر، قریبی عمارتوں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا لیکن وہ اس واقعے میں محفوظ رہے۔

پولیس کے مطابق دھماکا خیز مواد ایک دکان میں نصب تھا جو کہ نور اکبر اور عوامی نیشنل پارٹی کی انتخابی امیدوار خورشید بیگم کے انتخابی دفاتر کے درمیان واقع ہے۔ بارودی مواد میں ریموٹ کنٹرول سے دھماکا کیا گیا۔

اتوار کی دوپہر دوسرا بم دھماکا پشاور میں چارسدہ روڈ پر مقصودآباد کے علاقے میں ہوا اور اس کا ہدف خیبر ایجنسی سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 46 سے امیدوار ناصر خان آفریدی کا انتخابی دفتر تھا۔ دھماکے سے تین افراد ہلاک اور دس زخمی ہوگئے۔

انتخابات سے قبل ملک کے مختلف علاقوں میں سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، کارکنوں اور ان کے دفاتر پر شدت پسندوں کے حملوں میں اضافے پر الیکشن کے پرامن انعقاد پر خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے لیکن نگراں حکومت بارہا اس پر قابو پانے کے عزم کا اظہار کرچکی ہیں۔

اتوار کو الیکشن کمیشن نے ایک بار پھر انتخابی امیدواروں پر ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے صوبائی حکومتوں کو امن و امان کی صورتحال قابو میں رکھنے کے لیے ہدایات جاری کی ہیں۔
XS
SM
MD
LG