رسائی کے لنکس

logo-print

شیعہ زائرین کی بس پر حملے کے خلاف احتجاج


شیعہ زائرین کی بس پر حملے کے خلاف احتجاج

بلوچستان میں شیعہ زائرین کی بس پر فائرنگ سے 26 افراد کی ہلاکت کے خلاف بدھ کو صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں اقلیتی شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے مظاہرہ کیا۔

مظاہرین نے ہلاکتوں کے خلاف بروری اور مغربی بائی پاس کے علاقوں میں شاہراہوں کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا تاہم بعد میں انتظامیہ نے مداخلت کر کے ان سڑکوں کو آمد و رفت کے لیے کھلوا دیا۔

کوئٹہ کے ہزارہ ٹاؤن میں خواتین نے بھی مظاہرہ کیا جب کہ شیعہ آبادی والے علاقوں میں ہڑتال بھی کی گئی۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس نذیز احمد کرد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ صوبے کے مختلف علاقوں سے درجنوں مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر اُن سے تفیش کی جا رہی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ تحویل میں لیے گئے افراد میں اکثریت افغان مہاجرین کی ہے۔ ’’ان لوگوں (افغان مہاجرین) کو کئی جرائم میں استعمال کیے جانے کے شواہد ملے ہیں۔‘‘

نذیر احمد کرد کا کہنا تھا کہ مشتبہ افراد سے تفتیش جاری ہے البتہ تاحال کوئی اہم پیش رفت سامنے نہیں آ سکی ہے۔

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں منگل کی سہ پہر گاڑیوں پر سوار نامعلوم مسلح افراد نے ایران جانے والے شیعہ زائرین کی بس کو روکا اور مسافروں کو نیچے اتار کر اُن پر خودکار ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کلعدم تنظیم لشکر جھنگوی نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

بعد ازاں زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے والی ایمبولینس گاڑی پر فائرنگ سے تین مزید افراد ہلاک ہو گئے۔

بلوچستان میں امن وامان کی خراب صورت حال کے باعث کوئٹہ سے تفتان اور تفتان سے واپس کوئٹہ آتے ہوئے ان زائرین کی حفاظت کے لیے پولیس اور لیویز کے اہلکار معمور کیے جاتے ہیں تاہم پولیس حکام نے بتایا کہ زائرین نے اپنے اس سفر کے بارے میں انتظامیہ کو کوئی اطلاع نہیں دی تھی جس کی وجہ سے جب مسافر بس پر فائرنگ کی گئی تو وہاں کوئی سرکاری محافظ نہیں تھے۔

اس سے قبل بھی بلوچستان کے علاقوں میں شیعہ زائرین پر ایسے حملے کیے جاتے رہے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں سے ہر سال ہزاروں شیعہ زائرین کوئٹہ سے تفتان کے راستے ایران اور عراق جاتے ہیں، جہاں کربلا اور دیگر مقدس مقامات کی زیارت کے بعد وہ اسی راستے سے واپس کوئٹہ پہنچتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG