رسائی کے لنکس

پاکستان کی جنوبی افریقہ کے خلاف کامیابی، لیکن بہتری کی گنجائش باقی


مبصرین کے مطابق فواد عالم اور نعمان علی کی سلیکشن سے یہ ثابت ہوتا ہے جو کھلاڑی ڈومیسٹک کرکٹ کی بھٹی میں پک کر کندن بنتے ہیں اور جنہیں فرسٹ کلاس کرکٹ کا تجربہ ہوتا ہے وہی انٹرنیشنل کرکٹ میں سروائیو کر سکتے ہیں۔

کبھی خوشی کبھی غم جیسی غیر یقینی صورتِ حال کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم نے بالآخر جنوبی افریقہ کو پہلے ٹیسٹ میں سات وکٹ سے شکست دے دی۔

یوں نہ صرف کپتان بابر اعظم نے اپنے پہلے ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کی بلکہ اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے نعمان علی نے ایک اننگز میں پانچ کھلاڑیوں کو بھی آؤٹ کیا۔ وہ نہ صرف یہ کارنامہ انجام دینے والے 12ویں پاکستانی بالر بنے بلکہ ساتھی لیگ اسپنر یاسر شاہ کے ہمراہ انہوں نے اس جیت میں اہم کردار ادا کیا۔

دونوں اسپنرز نے میچ میں مجموعی طور پر 14 وکٹیں حاصل کیں۔ لیکن مین آف دی میچ کا ایوارڈ فواد عالم کے حصے میں آیا جن کی پہلی اننگز میں شان دار سینچری نے پاکستان کی جیت کی بنیاد رکھی۔ اپنے کم بیک کے بعد فواد عالم کی یہ دوسری سینچری تھی اور میچ میں وننگ شاٹ مار کر انہوں نے ناقدین کو کرارا جواب دیا۔

لیکن کیا یہ کامیابی ایسی تھی کہ اس کی وجہ سے شائقین پاکستان ٹیم کا مایوس کن دورۂ نیوزی لینڈ بھول جائیں؟ کیا ٹیم کامبینیشن میں اب بھی بہتری کی گنجائش ہے تاکہ قومی ٹیم اگلے ٹیسٹ میں بہتر انداز میں پرفارم کر سکے؟

پاکستانی فاسٹ بالرز کی مایوس کن کارکردگی

نیشنل اسٹیڈیم کراچی کی وکٹ نے ٹاس جیتنے والی مہمان ٹیم کو ہی نہیں بلکہ میزبان ٹیم کو بھی حیران کیا۔ لیکن جنوبی افریقی پیسرز نے بہتر انداز میں بالنگ کرکے وکٹیں حاصل کیں، جب کہ پاکستانی پیس بیٹری بجھی بجھی نظر آئی۔

پاکستانی پیس اٹیک نے متعدد نو بالز پھینکیں۔ کم بیک کرنے والے حسن علی اور فہیم اشرف کو بطور فاسٹ بالنگ آل راؤنڈر کھلانا اور شاہین شاہ آفریدی کا آف کلر دکھنا، پاکستان کے لیے اگلے میچز میں مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔

سینئر کرکٹ کمنٹیٹر مرزا اقبال بیگ کے خیال میں وقار یونس جیسے بڑے فاسٹ بالر کی کوچنگ سیٹ اپ میں موجودگی سے اگر ٹیم کو فرق نہیں پڑ رہا تو اس کا حل پاکستان کرکٹ بورڈ کو نکالنا ہے۔

ان کے بقول فاسٹ بالنگ میں قومی ٹیم تجربات کرتی نظر آئی۔ فہیم اشرف کو آل راؤنڈر تو کہتے ہیں لیکن اصل کام ان کا بالنگ ہے، جو وہ نہیں کرپا رہے ہیں۔ اسی طریقے سے حسن علی جو ڈومیسٹک میں اچھا پرفارم کر رہے تھے، وہ ٹیسٹ میچ میں فلاپ ہو گئے۔

مرزا اقبال بیگ کے بقول یہ دونوں بالرز شارٹر ورژن کے بالرز ہیں اور چوں کہ ہم نے فاسٹ بالرز تیار ہی نہیں کیے، اس لیے وائٹ بال کرکٹ کے بالرز کو ٹیسٹ کھلا دیتے ہیں اور ڈومیسٹک کا وسیع تجربہ رکھنے والوں کو سلیکٹ نہیں کرتے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ موسٰی خان اور نسیم خان جیسے نا تجربہ کار بالرز کو کھلانے سے بھی پاکستان کو نقصان ہوا جو فرسٹ کلاس کرکٹ کا تجربہ نہیں رکھتے تھے۔

ان کے بقول پاکستان کو چاہیے کہ جنید خان جیسے تجربے کار بالر کو نظر انداز نہ کریں بلکہ ٹیم میں کھلائیں اور نئے بالرز کو پہلے گروم کریں اور پھر انٹرنیشنل کرکٹ میں جگہ دیں۔ شاہین شاہ آفریدی پر سارا بوجھ ڈالنا، وہ بھی تینوں فارمیٹس میں سراسر زیادتی ہے اور اس سے ڈر ہے کہ کہیں وہ برن آؤٹ نہ ہو جائیں۔

بالنگ کوچ وقار یونس پر تنقید کرتے ہوئے مرزا اقبال بیگ نے کہا کہ سابق کپتان پانچویں بار پاکستان کرکٹ کا بحیثیت کوچ حصہ بنے ہیں، لیکن ٹیم کا کوئی فائدہ ہوتا نظر نہیں آ رہا۔

ان کے بقول یہاں تو وقار یونس کا احتساب ہونا چاہیے کہ 2019 سے اب تک انہوں نے پاکستانی پیس اٹیک کے ساتھ کیا کیا ہے کہ اس وقت ہمارا فاسٹ بالنگ اٹیک نا تجربے کار اور کمزور ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کراچی ٹیسٹ میں 20 میں سے 14 وکٹیں اسپنرز نے حاصل کیں۔

بابر اعظم: پہلا ٹیسٹ میچ جیتنے والے خوش نصیب کپتان

کچھ بات بابر اعظم کی کپتانی کی۔ دورۂ نیوزی لینڈ میں انجری کی وجہ سے کوئی میچ نہ کھیلنے والے بابر اعظم نے بالآخر نیشنل اسٹیڈیم میں بحیثیت کپتان اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلا اور کامیابی حاصل کی۔

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ شاہد ہاشمی ان کی مجموعی کارکردگی سے تو مطمئن ہیں لیکن وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بابر اعظم کو ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بابر اعظم نے جیسے ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے میں کپتانی کی۔ ویسی ہی وہ ٹیسٹ میں بھی کر رہے تھے۔ جوں جوں وہ زیادہ میچز کھیلیں گے، ان کی قیادت میں بہتری آئے گی۔ سننے میں آیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان کی گرومنگ کے لیے ایک استاد بھی رکھا ہے جو انگریزی اور اردو زبان میں ان کی رہنمائی کرے گا۔

بابر اعظم کے حوالے سے انہوں نے مزید کہا کہ جیسے جیسے ٹیم جیتے گی، ان کی کپتانی میں میچورٹی آئے گی۔ سابق کپتانوں سے بات کر کے ان کو سیکھنا چاہیے اور اپنی کپتانی میں وہ ایگریشن لانی چاہیے جس کی ابھی کمی ہے۔

فواد عالم کے بعد نعمان علی: 'ڈومیسٹک کرکٹ کو عزت دو'

پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے چیف سلیکٹر محمد وسیم نے جہاں فواد عالم کو کامیاب دورۂ نیوزی لینڈ کے بعد ٹیم کے ساتھ رکھا، وہیں ڈومیسٹک کرکٹ کے کامیاب بالر نعمان علی کو بھی ٹیسٹ میچ میں موقع دیا اور پہلی اننگز میں دو اور دوسری اننگز میں پانچ اہم وکٹیں حاصل کرکے 34 سالہ لیفٹ آرم اسپنر نے ریکارڈ بک میں جگہ بنائی۔

مرزا اقبال بیگ کہتے ہیں کہ فواد عالم اور نعمان علی کی سلیکشن سے یہ ثابت ہوتا ہے جو کھلاڑی ڈومیسٹک کرکٹ کی بھٹی میں پک کر کندن بنتے ہیں اور جنہیں فرسٹ کلاس کرکٹ کا تجربہ ہوتا ہے وہی انٹرنیشنل کرکٹ میں سروائیو کر سکتے ہیں۔

ان کے بقول فواد عالم طویل عرصے سے کھیل رہے ہیں اور ٹیم سے باہر ہونے کے باوجود بھی اچھی کارکردگی دکھاتے رہے اور پہلے نیوزی لینڈ میں سینچری اسکور کی اور اب کراچی میں پاکستان کو اپنی سینچری سے کامیابی دلائی۔

ان کے خیال میں اسی طریقے سے نعمان علی کے ڈومیسٹک کرکٹ کے طویل تجربے نے ان کے ٹیسٹ ڈیبیو میں مدد کی اور وہ سات وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

مرزا اقبال بیگ کے بقول ہم جو تجربات کرتے آئے ہیں کہ لڑکے نے ایک اچھی پرفارمنس دی تو اسے انٹرنیشنل کرکٹ کھلا دی۔ یہ پالیسی اب ترک کرنی ہو گی اور ڈومیسٹک کے پرفارمرز کو پہلے چانس دینا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ان دونوں کھلاڑیوں کی کارکردگی کے بعد بورڈ کو بھی اس بات کا اندازہ ہو گیا ہو گا کہ ڈومیسٹک کے تجربے کار پرفارمرز کو چانس دینا بہتر ہے۔

اگلے میچز میں کیا کیا تبدیلیاں ہونا چاہئیں؟

دونوں اننگز میں اوپننگ بیٹسمین کا نہ چلنا لمحۂ فکریہ ہے۔ یہ کہنا ہے شاہد ہاشمی کا۔ جو سمجھتے ہیں کہ اگلے میچ سے قبل پہلا میچ کھیلنے والے نعمان بٹ کو اپنی خامیوں پر نظر ڈالنی ہو گی۔

فاسٹ بالرز کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگلے میچ میں ایک مستند پیسر کھلانا بھی ضروری ہو گا۔

شاہد ہاشمی کے بقول میچ کے دوران دیکھا گیا کہ حسن علی نے فزیو تھراپسٹ کے ساتھ کمر کی ایکسرسائز کیں۔ چوں کہ پاکستان ٹیم میچ جیتی ہوئی ہے اس لیے ٹیم میں ایک تبدیلی ہو سکتی ہے اور اگلے میچ میں اگر حسن علی کی جگہ تابش خان کو موقع دے دیا جائے تو کوئی برائی نہیں۔

ان کے بقول حسن علی نے میچ کی دونوں اننگز میں ایک، ایک وکٹ ہی حاصل کی اور تھوڑے تھکے تھکے نظر آئے جس سے ایسا تاثر ملا کہ وہ مکمل فٹ نہیں ہیں۔ اگر تابش کے سر پر ٹیسٹ کیپ سج جائے تو اس کے کریئر کا اہم موڑ ثابت ہو گا۔

شاہد ہاشمی سمجھتے ہیں کہ 600 کے قریب فرسٹ کلاس وکٹیں حاصل کرنے والے بالر کو اگر راولپنڈی میں موقع مل جائے تو اس کے فینز کے ساتھ ساتھ اس کو بھی خوشی ہوگی۔ ان کے بقول عمران بٹ دونوں اننگز میں اچھا پرفارم نہیں کرسکے لیکن وہ ڈومیسٹک کے پرفارمر ہیں، انہیں ایک اور موقع ملنا چاہیے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG