رسائی کے لنکس

افغان امن کے لیے امریکہ پاکستان سے تعاون کرے: اعزاز چودھری


پاکستانی سفیر اعزاز چودھری کی امریکی سینیٹر ریڈ سے ملاقات

اعزاز چودھری نے امریکی سینیٹر جیک ریڈ سے گفتگو میں افغانستان اور جنوبی ایشیا سے متعلق نئی امریکی پالیسی پر انھیں پاکستان کے نقطۂ نظر سے بھی آگاہ کیا۔

امریکہ کے لیے پاکستان کے سفیر اعزاز احمد چودھری نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ سے تباہ حال ملک افغانستان میں امن و استحکام کے لیے پاکستان سے تعاون کرے۔

واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کی طرف سے جاری ایک بیان کے مطابق سفیر اعزاز چودھری نے منگل کو کیپٹل ہل میں امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے رکن سینیٹر جیک ریڈ سے ملاقات کی۔

ملاقات میں سفیر نے سینیٹر ریڈ کو انسدادِ دہشت گردی کے لیے پاکستان کی کاوشوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی اور سرحدی علاقوں سے تمام عسکریت پسند گروپوں کا صفایا کر کے دہشت گردی کی لہر کو ختم کر دیا گیا ہے۔

لیکن انھوں نے پڑوسی ملک افغانستان کے ایسے علاقوں کی بڑھتی ہوئی تعداد جہاں حکومت کی عمل داری نہیں ہے وہاں سے پاکستان کے خلاف دہشت گرد عناصر کی کارروائی پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔

سفیر اعزاز چودھری نے امریکی سینیٹر سے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان میں امن کے لیے امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرے کیونکہ اگر افغانستان میں عدم استحکام رہتا ہے تو اس سے پاکستان کے اقتصادی اور سلامتی کے شعبوں میں ہونے والی پیش رفت خطرے میں پڑ جائے گی۔

ایک امر قابل ذکر ہے کہ رواں ہفتے ہی سرحد پار افغانستان سے قبائلی علاقے باجوڑ میں ایک چوکی پر عسکریت پسندوں کے حملے میں ایک افسر سمیت دو پاکستانی فوجی ہلاک ہو گئے تھے جس پر پاکستان نے افغانستان سے احتجاج کرتے ہوئے ایسے حملوں کی روک تھام کے لیے سرحدی نگرانی کو موثر بنانے پر زور دیا تھا۔

فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے بھی ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ افغانستان کی طرف "سلامتی کے خلا کی قیمت پاکستان کو ادا کرنی پڑی رہی ہے۔"

سفارت خانے کے بیان کے مطابق سفیر اعزاز چودھری نے امریکی سینیٹر جیک ریڈ سے گفتگو میں افغانستان اور جنوبی ایشیا سے متعلق نئی امریکی پالیسی پر انھیں پاکستان کے نقطۂ نظر سے بھی آگاہ کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG