رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان میں نکاسی آب اور صاف پانی کی عدم دستیابی باعث تشویش


پاکستان میں نکاسی آب اور صاف پانی کی عدم دستیابی باعث تشویش

ایک بین الاقوامی جانبدار تنظیم واٹر ایڈ نے پاکستان میں پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے حوالے سے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ملک کی مجموعی آبادی کا 55 فیصد نکاسی آب اور بیت الخلاء کی سہولت سے محروم ہے اور ان حالات میں پاکستان کے لیے اقوام متحدہ کے ترقیاتی اہداف کا حصول بظاہر مشکل دکھائی دیتا ہے۔

پاکستان اقوام متحدہ کے مقرر کردہ صدی کے ترقیاتی اہداف کے تحت 2015ء تک 93 فیصد آبادی کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور 64 فیصد آبادی کو نکاسی آب کی سہولتیں فراہم کرنے کا پابند ہے۔

غیر سرکاری تنظیم واٹر ایڈ کے پاکستان میں سربراہ صدیق احمد نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ پاکستان میں 5 کروڑ افراد کو بیت الخلاء اور نکاسی آب کی سہولت میسر نہیں ہے جس کے نتیجے میں بیماریوں میں اضافہ ہوا ہے۔

’’ سیوریج لائن اور پینے کے پانی کی لائنز مکس ہونے سے پانی گندا ہو جاتا ہے اور پاکستان میں پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کی شرح بہت زیادہ ہے اور ہر سال ناقص سہولیات کے باعث تقریباً 98 ہزارافراد فوت ہو جاتے ہیں ‘‘۔

وفاقی محکمہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر رشید جمعہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اعتراف کیا ہے کہ پاکستان میں گندے پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کی شرح بہت زیادہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کی عدم توجہ کے باعث ملک میں صحت عامہ کی صورتحال خراب ہے۔

’’نکاسی آب نہ ہونے اور پینے کے گندے پانی کے باعث ہونے والی بیماریوں کی شرح ہمارے ہاں سب سے زیادہ ہیں ہیضہ پولیو اور پیٹ کی بیماریاں بہت زیادہ ہیں آج تک بڑے پیمانے پر اس پر کام نہیں ہوا ہے ‘‘۔

انھوں نے تسلیم کیا ہے کہ بہتر منصوبہ بندی نہ ہونے کے باعث عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کی سہولتوں کا فقدان ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں گندے پانی سے پیدا ہونے والی بیماری اسہال کے باعث ہر سال پانچ سال سے کم عمر کے 54 ہزار بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG