رسائی کے لنکس

logo-print

’کاشتکار آڑھتیوں کے شکنجے میں پھنس چکا ہے‘


پاکستان میں اس وقت گندم کی سرکاری خریداری کا سلسلہ جاری ہے جس میں چھوٹے کسانوں کو اپنی چھ ماہ کی بھرپور محنت کے باوجود مناسب حصہ نہیں مل رہا۔ ان خیالات کا اظہار چھوٹے کاشتکاروں کے مسائل اجاگر کرنے والی ویب سائٹ، ’سی آر وایسز ڈاٹ کام‘ کے فاؤنڈر اور ایک انٹرنیشنل ایگری کلچرل اکانومسٹ، آفتاب عالم نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ پنجاب میں گندم کی سرکاری خرایداری کا سلسلہ گزشتہ برسوں کی طرح جاری ہے، لیکن سندھ میں حکومت اس سال گندم کی خریداری میں مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے، جس کی وجہ سے کاشتکار، خاص طور پر چھوٹے کاشتکار، آڑھتیوں کے شکنجے میں پھنس چکا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ چھوٹا کسان گندم کی سرکاری خریداری میں مختلف وجوہ کی بنا پرحصہ نہ ملنے کی وجہ سےاور اپنے مختلف ذاتی مسائل کی وجہ سے اس وقت سرکاری قیمت 1300 روپے فی من کی بجائے 900 روپے فی من کے حساب سے اپنی گندم بیچنے پر مجبور ہے، جس کے نتیجے میں اسے ایک من پر چار سو روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے ایک ایکڑ پر تقریباً بیس ہزار روپے کا نقصان۔

آفتاب عالم نے کہا کہ اتنا نقصان تو ایک تاجر کے لیے بھی برداشت کرنا مشکل ہے تو اسے ایک چھوٹا کسان کیسےبرداشت کر سکتا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ حکومت سندھ کو چاہیے کہ چھوٹے کسانوں کے لیے فوری طور پر امدادی پیکیج کا اعلان کرے، تاکہ ان کا نقصان پورا ہو سکے۔

پنجاب کے ضلع لیہ کے ایک کاشتکار، عبدالمجید چھینہ نے جو پانچ ایکڑ رقبے پر گندم کاشت کرتے ہیں وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کھاد اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے اس سال گندم کی کاشت میں کسانوں کو، خصوصی طور پر چھوٹے کاشتکاروں کو، بہت نقصان ہوا؛ کیوں کہ اخراجات بڑھ گئے اور ریٹ وہی رہا جو 2013 میں تھا۔ حکومت نے گندم کے ریٹ نہیں بڑھائے اور امدادی قیمت نہیں دی جس کی وجہ سے خاص طور پر چھوٹا کسان بہت بد حال ہے۔

سندھ کے ایک چھوٹے کاشتکار، غلام حیدر نے، جو تین ایکڑ زمین پر گندم کاشت کرتے ہیں، وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے گندم کی جو قیمت 1300 روپے فی من مقرر کی ہے وہ ان سے سرکاری ادارے خرید نہیں رہے۔ اس کی وجہ سے ان کی طرح کے 60 لاکھ ہاری خاندان جنہوں نے گندم لگائی تھی سب کے سب پریشان ہیں۔ انہیں اپنی گندم مارکیٹ میں سستے داموں فروخت کرنا پڑ رہی ہے اور صورتحال یہ ہے کہ انہیں اپنی چھ ماہ کی محنت کے باوجود صرف 6000 روپےفی ایکٹر بچے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کاشتکار پریشان ہیں کہ اب وہ اپنی اگلی فصل کیسے اگائیں گے۔ ان کے گھریلو اخراجات کیسے پورے ہوں گے۔ ان کے بچے اسکول کیسے جائیں گے۔ ان کے صحت کے اخراجات کیسے پورے ہوں گے اور وہ اپنے قرضے کیسے چکائیں گے۔

غلام حیدر نے کہا کہ حکومت کی جانب سے چھوٹے کسانوں کے مسائل پر عدم توجہی کی وجہ سے اب چھوٹے کسان کاشتکاری چھوڑ کر مزدوری کے لئے شہروں کا رخ کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

اور چھوٹے کسانوں کے مسائل کے بارے میں وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے، پلاننگ کمیشن آف پاکستان کے فوڈ سیکورٹی اینڈ ایگری کلچر کے رکن ڈاکٹر محمد عظیم خان نے کہا کہ ان مسائل کی سب سے بڑی وجہ چھوٹے اور بڑے کسانوں کے لیے حکومت کی یکساں پالیسی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چھوٹے اور بڑے کسانوں کے لیے فصلیں اگانے میں جو فرق ہونا چاہیے، اور ان کے لیے امدادی پیکیجز میں جو فرق ہونا چاہئے، حکومت کی موجودہ زرعی پالیسیوں میں اس کا خیال نہیں رکھا گیا۔ چھوٹے کسانوں کے لیے اپنی گندم براہ راست حکومت کو فروخت کرنے کے لیے الگ سے کوئی پالیسی نہیں ہے اور نہ ہی کوئی الگ سے امدادی پیکیجز موجود ہیں۔ وہ پہلے ہی غربت اور قرض کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے اور اسے اپنی فصل فروخت کرنے میں وہ منافع نہیں ملتا جو بڑے کسانوں کو حاصل ہوتا ہے۔ یہی وجوہات ہیں کہ چھوٹا کسان ایک عرصے سے مسائل میں الجھا ہوا ہے۔

ڈاکٹر محمد عظیم کا کہنا تھا کہ چھوٹے کسان کےلیے صرف گندم کے حوالے سے سوچنے سے نہ تو اس کی غربت دور ہوگی اور نہ ہی اس کے مسائل حل ہوں گے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ انہیں ابتدائی طور پر امداد دی جائے۔ انہیں کاشتکاری کے جدید آلات اور ٹکنالوجی سے لیس کیا جائے اور ان کے استعمال کی تربیت دی جائے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ انہیں قومی اور بین الاقوامی مارکیٹ تک رسائی کے وسائل فراہم کیے جائیں۔

تاہم، انہوں نے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ اس وقت حکومت نے غربت دور کرنے کے لیے جو منصوبے بنائے ہیں ان میں چھوٹے کسانوں کے لیے بھی بہتری کے اسباب موجود ہیں۔ ان میں رورل انٹری پرینیورشپ، رورل انڈسٹریلائزیشن پر مرکوز بہت سے ایسے منصوبے شامل ہیں، جن سے ان کی کارکردگی اور ان کی زندگیوں میں بہتری آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ آنے والے بجٹ سے قبل ان منصوبوں کے لیے مختص کی جانے والی سرمایہ کاری کی تفصیلات واضح ہو جائیں گی جن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کی یہ رقم پچھلے برسوں سے کہیں زیادہ ہوگی ۔

اور ’سی آر وائسز ڈاٹ کام‘ کے زرعی ماہر اقتصادیات، آفتاب عالم نے کہا کہ گندم کی خریداری کے مسئلے کے حل کے لیے حکومت کو چاہیے کہ سرکاری عملے کو سختی سے ہدایت کرے کہ چھوٹے کسانوں کی گندم ترجیحی بنیادوں پر خریدی جائے اور جن خریداری مراکز کے عملے کے خلاف کرپشن کی شکایات ہیں ان کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور خریداری مراکز پر چھوٹے کسانوں کو انتظامیہ میں شامل کیا جائے، تاکہ ان کے خلاف ہونے والے استحصال کو روکا جا سکے۔

لیہ کے چھوٹے کاشتکار عبدالمجید چھینہ نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ چھوٹے کسانوں کے حالات کو سدھارنے کے لیے پالیسی ساز اداروں میں چھوٹے کسانوں کو لازمی طور پر شامل کرے اور ان کے لیے ’کسان دوست‘ پالیسیاں بنائے۔

ڈاکٹر محمد عظیم خان نے اس توقع کا اظہار کیا کہ پاکستان کی صوبائی حکومتیں اور وفاقی حکومت چھوٹے کاشتکاروں کے گندم کی سرکاری خریداری کے مسئلے پر فوری اور ترجیحی بنیادوں پر توجہ دیں، تاکہ وہ اپنے مالی مسائل کے حل اور اپنی اگلی فصل کی کاشت کے لئے وسائل حاصل کر سکیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG