رسائی کے لنکس

logo-print

کلبھوشن کو بھارت کے حوالے نہیں کیا جائے گا: سرتاج عزیز


مشیر خارجہ سرتاج عزیز (فائل ٖفوٹو)

اگرچہ پاکستان پہلے بھی کئی بار یہ کہہ چکا ہے کہ وہ کلبھوشن کے خلاف مقدمہ ملک کے اندر چلائے گا تاہم بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد اور دہلی کے تعلقات بہتر ہونے کی صورت میں پاکستان اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی بھی کر سکتا ہے۔

پاکستان نے زیر حراست مبینہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو کو بھارت کے حوالے کرنے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کلبھوشن کے خلاف ملک میں مقدمہ چلانے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے اُمور خارجہ سرتاج عزیز نے یہ بات پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں جمعہ کو دیے گئے ایک بیان میں کہی۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان نے کلبھوشن کی طرف سے قبل ازیں دیے گئے بیان کے تناظر میں سوالات کی ایک فہرست بھارت کے حوالے کرتے ہوئے پڑوسی ملک سے اس بارے میں وضاحت طلب کی ہے۔

پاکستانی مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان نے اپنے اندرونی معاملات میں بھارت کی مبینہ مداخلت سے متعلق شواہد اقوام متحدہ کو بھی فراہم کیے ہیں۔

اگرچہ بھارت کی طرف سے سرتاج عزیز کے تازہ بیان پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے تاہم نئی دہلی قبل ازیں ایسے الزامات کو مسترد کر چکا ہے۔

بھارت کا موقف رہا ہے کہ اس کے ہاں ہونے والے متعدد دہشت گرد حملوں میں ملوث افراد کو مبینہ طور پر پاکستان کی معاونت حاصل رہی ہے، اسلام آباد ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

اگرچہ پاکستان پہلے بھی کئی بار یہ کہہ چکا ہے کہ وہ کلبھوشن کے خلاف مقدمہ ملک کے اندر چلائے گا تاہم بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد اور دہلی کے تعلقات بہتر ہونے کی صورت میں پاکستان اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی بھی کر سکتا ہے۔

دفاعی اور بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار طلعت مسعود نے کہا کہ دونوں ملک اپنے باہمی معاملات کو بات چیت ہی سے حل کر سکتے ہیں۔

"اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بات چیت کے بغیر معاملات حل نہیں ہو سکتے ہیں اور بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ بات چیت کا سلسلہ بلکل بند ہے۔۔۔ اس سے تناؤ بڑھتا ہے اور اس سے بدگمانی اور بڑھتی ہے۔"

واضح رہے کہ گزشتہ سال پاکستانی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ایک بھارتی شہری کلبھوشن یادیو کو بلوچستان سے گرفتار کیا ہے، جو مبینہ طور پر بھارتی خفیہ ادارے ’را‘ کا ایجنٹ اور بھارتی بحریہ کا حاضر سروس ملازم ہے۔

پاکستانی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ملک کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان اور کراچی میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث تھا۔

اگرچہ بھارت نے یہ تسلیم کیا تھا کہ کلبھوشن اس کا شہری ہے اور وہ بھارتی بحریہ کا سابق افسر ہے تاہم اس نے اس الزام کو مسترد کیا تھا کہ اس کا تعلق 'را' سے ہے۔

بھارت نے کلبھوشن یادیو تک سفارتی رسائی کا مطالبہ کیا تھا، تاہم پاکستان کی طرف سے تاحال سفارتی رسائی نا دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG