رسائی کے لنکس

نیوزی لینڈ کے مارک کول پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کے کوچ مقرر


کولز کی پہلی ذمہ داری متحدہ عرب امارات میں نیو زی لینڈ کے خلاف تین ایک روزہ میچوں اور چار ٹی۔20 میچوں کیلئے ٹیم کو تیار کرنا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے مارک کولز کو متحدہ عرب امارات میں نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کیلئے پاکستان کی خواتین کی کرکٹ ٹیم کا کوچ مقرر کر دیا ہے۔

کولز کا تعلق نیوزی لینڈ سے ہے۔ اُن کا تقرر خواتین کی کرکٹ ٹیم کی گزشتہ عالی کپ میں مایوس کن کارکردگی کے بعد کیا گیا ہے۔

پی سی بی کی طرف جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ کولز کا تقرر تجرباتی بنیادوں پر کیا گیا ہے اور وہ رضاکارانہ طور پر خواتین کرکٹ ٹیم کے ساتھ صرف نیوزی لینڈ کے خلاف مذکورہ سیریز کیلئے کام کریں گے۔

پاکستانی خواتین کی کرکٹ ٹیم کو گزشتہ عالی کپ میں ثنا میر کی قیادت میں تمام کے تمام سات میچوں میں شکست کی حزیمت اُٹھانی پڑی تھی اور یوں پوائنٹس ٹیبل پر یہ سب سے آخر میں رہی تھی۔

اس خراب کارکردگی کی بنا پر ٹیم کے کوچ سبی اظہر نے اپنی رپورٹ میں اس شکست کی ذمہ داری کپتان ثنا میر، منیجر اور کچھ سینئر کھلاڑیوں پر ڈالی تھی۔

پی سی بی اس رپورٹ کی روشنی میں شکست کے اسباب کا جائزہ لے رہا ہے اور اس کی روشنی میں خواتین کرکٹ کے تمام تر ڈھانچے کو تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

کرکٹ کے ماہرین اس توقع کا اظہار کر رہے ہیں کہ اس کے نتیجے میں کچھ کھاڑیوں اور آفیشلز کو فارغ کر دیا جائے گا اور متوقع طور پر کپتان کو بھی تبدیل کر دیا جائے گا۔

پی سی بی کے چیئرمین نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ کرکٹ بورڈ نے بہت سے پاکستانی کوچز کو آزمایا ہے لیکن وہ اچھے نتائج دینے میں ناکام رہے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم مردوں کی ٹیم کی طرح خواتین کرکٹ میں زیادہ پیشہ ورانہ مدد حاصل کریں۔ پی سی بی کا ارادہ ہے کہ اب ایسی منیجمنٹ ٹیم تشکیل دی جائے جو پیشہ ورانہ انداز میں کام کرتے ہوئے مثبت نتائج دے۔

نئے کوچ کولز ولنگٹن کیلئے لسٹ اے کے چھ میچ کھیل چکے ہیں اور اُنہیں نیوزی لینڈ اور آسٹریلیہ میں کوچنگ کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔ وہ اس سے پہلے ویسٹرن آسٹریلیہ اور ولنگٹن کی خواتین کی کرکٹ ٹیموں کیلئے ہائی پرفارمنس منیجر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔

کولز نے اس تقرر کے بعد کہا کہ پاکستانی ٹیم کیلئے عالمی کپ میں تمام میچ سخت تھے اور اُنہوں نے خوب مقابلہ کیا تھا۔ تاہم پاکستانی ٹیم نے میچوں کے نازک مرحلوں میں مواقع گنوا دئے اور یوں اسے ناکامی ہوئی۔ کولز نے کہا کہ شائقین کی خواہش ہے کہ اُن کی ٹیم جیتے اور ہماری کوشش ہو گی کہ پاکستانی ٹیم کی کارکردگی بہتر ہو۔

پاکستانی خواتین کرکٹ ٹیم کو اس سے پہلے کبھی ماہر کوچنگ اسٹاف فراہم نہیں کیا گیا تھا۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران کوچز محض مخصوص سیریز کیلئے ہی مقرر کئے گئے۔ اظہر راولپنڈی کے ہیڈ کوچ تھے اور اُنہیں ورلڈ کپ سے صرف چند ہفتے قبل ہی مقرر کیا گیا تھا۔

تاہم ماضی میں منصور رانا اور مہتشم رشید کو لمبے عرصے کیلئے کوچنگ کی زمہ داریاں دی گئی تھیں۔ بعد میں باسط علی کو خواتین کرکٹ ٹیم کا کوچ مقرر کیا گیا لیکن اس سال اُن کی بھی چھٹی کرا دی گئی تھی۔

کولز کی پہلی ذمہ داری متحدہ عرب امارات میں نیو زی لینڈ کے خلاف تین ایک روزہ میچوں اور چار ٹی۔20 میچوں کیلئے ٹیم کو تیار کرنا ہے۔ یہ سیریز انٹرنیشنل کرکٹ کونسل یعنی آئی سی سی کی خواتین کرکٹ چیمپین شپ کا حصہ ہے۔

یہ ٹورنامنٹ چار سال تک جاری رہے گا جس کے اختتام پر ٹورنمنٹ کی چار بہترین ٹیمیں 2021 کے ورلڈ کپ میں براہ راست رسائی حاصل کر سکیں گی۔

یہ سیریز پاکستان کی ہوم سیریز ہے اور اس کے تمام میچ شارجہ میں کھیلے جائیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG