رسائی کے لنکس

logo-print

دو ابھرتی ہوئی پاکستانی فیشن ڈیزائنرز


پاکستان میں فیشن تیزی سے فروغ پارہا ہے اور صدف کہتی ہیں کہ یہ فیلڈ سرحدوں سے ماورا ہے

پاکستانی خواتین کی اکثریت روایتی طور پر قدامت پرست ہے اور کم خواتین ہی بغیر چادر کے گھر سے باہر قدم نکالتی ہیں۔ لیکن اس قدامت پرستی کے باوجود پاکستانی خواتین کا ٹیلنٹ دنیا کے کسی اور خطے کی خواتین کے ٹیلنٹ سے کسی طور کم نہیں اور انہیں جس میدان میں بھی موقع ملتا ہے، وہ اپنا لوہا منواتی ہیں۔

اسلام آباد میں رہائش پذیر صدف ملاتیرے اور انجم نون دو ایسی ہی پاکستانی خواتین ہیں جنہوں نے مقامی عورتوں کے مزاج کو مدِ نظر رکھتے ہوئے جدید آرٹ اور فیشن کے امتزاج سے کپڑوں کے نئے ڈیزائن متعار ف کرائے ہیں۔

Sadaf - Fashion Designer
Sadaf - Fashion Designer


فیشن پاکستان میں ایک بڑھتا ہوا کاروبار ہے اور صدف کہتی ہیں کہ یہ فیلڈ سرحدوں سے ماورا ہے۔

صدف کے بقول، "پاکستان میں ہر قسم کی خواتین موجود ہیں۔ ان میں سے بعض کچھ زیادہ روایت پسند ہیں لیکن اس کے باوجود وہ فیشن کو پسند کرتی ہیں۔ لیکن ان کا فیشن اس لحاظ سے ذرا مختلف ہے کہ وہ کسی بھی صورت کھلی ٹانگوں یا مختصر لباس کے ساتھ باہر نہیں نکلیں گی۔ لیکن یہ ممکن ہے کہ وہ بغیر آستینوں یا مختصر آستینوں والے ملبوسات پہن لیں۔ لہذا اس پہلو سے ہمارا کام خاصا متنوع ہے"۔

صدف نے جو نئے ملبوسات متعارف کرائے ہیں وہ روایتی پاکستانی انداز کے ہیں جن میں ریشمی کپڑوں پر آرٹ کے نمونے پینٹ کیے گئے ہیں۔ ان ملبوسات کے رنگ ہلکے لیکن ان پر موجود ڈیزائن خاصے شوخ و شنگ ہیں جو خاردار تاروں، خون اور ریڈیو ایکٹو نشانات پر مشتمل ہیں۔

یہ ڈیزائن آرٹسٹ انجم نون کی تخلیق ہیں جنہوں نے سب سے پہلے انہیں کینوس پر اتارا تھا جس کے بعد انہیں کپڑوں پر پرنٹ کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ شوخ و شنگ ڈیزائن پاکستانی عوام کی قوتِ برداشت کو ظاہر کرتے ہیں جو تمام تر مشکلات کے باوجود زندگی سے بھرپور ہیں۔

Anjum - Artist
Anjum - Artist


انجم کے بقول، "اس قدر خراب حالات کے باوجود ہمارے یہاں خوب صورتی موجود ہے۔ پاکستانی قوم بہت ہی خوبصورت ہے جو ان خراب حالات کے باوجود ہار ماننے پر آمادہ نہیں"۔

گو کہ ان ملبوسات کی شکل میں دیا جانے والا پیغام آفاقی ہے، لیکن یہ اتنے مہنگے ہیں کہ انہیں صرف پاکستانی اشرافیہ ہی زیبِ تن کرسکے گی۔
XS
SM
MD
LG