رسائی کے لنکس

انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں: پاکستان


انسانی حقوق کی غیر تسلی بخش صورت حال پر پاکستان کو مقامی و بین الاقوامی سطح پر مختلف فورمز پر اکثر تنقید کا سامنا رہتا ہے لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ وہ چیلنجز کے باوجود ملک میں انسانی حقوق کی بہتری کے لیے سرگرم ہے اور اس ضمن میں ایک جامع پالیسی کا خاکہ بھی مرتب کیا جا چکا ہے۔

حال ہی میں جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں پاکستان نے اپنی پیش کردہ رپورٹ میں بتایا کہ انسانی حقوق اور شہریوں کو حاصل بنیادی آزادی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے ضمن میں حکومت کو بدستور دہشت گردی، وسائل کی کمی اور پالیسیوں کے نفاذ سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔

تاہم اس کی وزارت انسانی حقوق نے وفاقی اور صوبائی سطح پر مشاورت کر کے ایک جامع پالیسی کا خاکہ تیار کیا ہے جسے تمام متعلقہ وزارتوں کو ارسال کر دیا گیا ہے تا کہ اس پر مزید غور کے بعد کابینہ سے منظور کروایا جا سکے۔

کونسل کے اس اجلاس میں بھی خاص طور پر اقلیتوں کے خلاف مبینہ امتیازی سلوک اور انھیں درپیش مشکلات پر پاکستان پر تنقید سامنے آئی تھی۔

ماضی میں بھی حکومتوں کی طرف سے انسانی حقوق اور اقلیتوں کے تحفظ کی بابت عزم تو ظاہر کیے جاتے رہے لیکن اس کے باوجود آئے روز کوئی نہ کوئی ایسی خبر سامنے آتی ہے جو ان دعوؤں کو مشکوک بناتی ہے۔

موقر غیر سرکاری تنظیم انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر مہدی حسن کے خیال میں ملک میں انسانی حقوق کی صورت حال بدستور غیر تسلی بخش ہے اور اس کی وجہ ان کے نزدیک سیاسی عزم کا فقدان ہے۔

پیر کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ "یہ کام سیاسی جماعتوں کے کرنے کا ہے۔ ہمارے ہاں جو سیاسی جماعتیں ہیں ان میں سے کسی کے ایجنڈے میں شامل نہیں، وہ صرف اقتدار کے لیے کام کرتی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اقتدار مل جائے تو بس ٹھیک ہے، ان کو اس چیز کا خیال نہیں کہ اگر صحیح خطوط پر سیاست کی جائے تو اس کے نتیجے میں اقتدار خود بخود مل جاتا ہے۔۔۔ہم آگے نہیں بڑھ رہے بلکہ ہم رکے ہوئے بھی نہیں ہم تو پیچھے ہٹ رہے ہیں۔"

تاہم اپنی رپورٹ میں حکومت نے اقوام متحدہ کو انسانی حقوق سے متعلق اپنے سیاسی عزم کا یقین دلاتے ہوئے بتایا ہے کہ پاکستان انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کثیر الجہت حکمت عملی کے فروغ کا بھی خواہاں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG