رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان میں غذائی اجناس تک رسائی اصل مسئلہ ہے: اقوامِ متحدہ


پاکستان کی 18 کروڑ آبادی کا نصف سے زائد غذائی قلت کا شکار ہیں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ کہ اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ اور مربوط پالیسی کے تحت اقدامات کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے اعداد شمار کے مطابق دنیا میں 84 کروڑ افراد روزانہ بھوکے سوتے ہیں جبکہ مجموعی طور پر دو ارب کی آبادی غذائی قلت کا شکار ہے جو کہ مختلف بیماریوں اور جسمانی و ذہنی معذریوں میں اضافے کی بڑی وجہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کہ اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ اور مربوط پالیسی کے تحت اقدامات کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

خوراک کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان کے صدر ممنون حسین نے اپنے پیغام میں اسی بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور دوسرے زرعی ممالک کو غذائی تحفظ پر اب زیادہ توجہ دینا ہوگی تاہم بڑھتی ہوئی آبادی کی خوارک کی ضرورت کے تناظر میں زرعی اجناس کی پیداوار میں اضافے کے لیے ان ممالک کو وسائل اور ٹیکنالوجی کی کمی کا سامنا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک ڈبلیو ایف پی کے ترجمان امجد جمال نے بدھ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں خوارک تک رسائی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔

’’یہاں غذائی اجناس کی کوئی کمی نہیں لیکن لوگوں کی اس تک رسائی نہیں جس کی وجہ یا تو بے روزگاری یا ہمارے یہاں تنخواہوں اور اجناس کی قیمتوں میں مماثلت نہیں۔ اس کی وجہ سے لوگ خرید نہیں پاتے اور خوراک کی وہ مقدار جوکہ صحت مند رکھنے کے لیے ضروری ہے وہ نہیں لے پاتے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی 18 کروڑ آبادی کا نصف سے زائد غذائی قلت کا شکار ہیں۔

امجد جمال نے بتایا کہ حکومت پاکستان اگر اپنے تیار کردہ منصوبے پر بھرپور طریقے سے عمل درآمد کرے تو ملک میں غذائی قلت کے بڑی واضح کمی متوقع ہے۔

’’کچھ جگہوں پر ریلیف کی شکل میں تقسیم کرکے تو کہیں کسی قسم کے کام کے عوض خوراک فراہم کرنے سے اور پھر سکولوں میں جو بچے ناشتہ نہیں کرکے آتے یا اتنا نہیں کھا پاتے جو ان کی نشونما کے لیے ضروری ہے، کو غذائیت سے بھرپور بسکٹ دیے جائیں۔‘‘

اقوام متحدہ کی تنظیم برائے اطفال کے پاکستان میں سربراہ ڈان روہمن کہتے ہیں کہ پاکستان اور عالمی برادری کی مشترکہ کوششوں سے خوراک اور صحت کے پیچیدہ اور سنگین مسائل کا حل ممکن ہے۔

’’اگر آپ پاکستان کو دیکھیں تو یہاں 44 فیصد وہ بچے ہیں جن کی صحیح نشو ونما نہیں ہوپاتی اور 15 فیصد شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔ آپ کے یہاں چار کروڑ افراد جسمانی معذوری کا شکار ہیں۔ یہ بہت بڑی تعداد ہے۔‘‘
XS
SM
MD
LG