رسائی کے لنکس

پاکستان میں غذائی عدم تحفظ ایک بڑا مسئلہ


(فائل فوٹو)

بھوک کا شکار ممالک کی فہرست میں پاکستان 119 ممالک میں 106 نمبر پر ہے

دنیا بھر کی طرح 16 اکتوبر کو پاکستان میں بھی خوراک کا عالمی دن منایا گیا، جس میں مناسب غذا کی دستیابی اور حصول کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔

پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں لگ بھگ نصف آبادی مختلف وجوہات کی بنا پر غذائی کمی کا شکار ہے۔

ماہرین کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک انسان کو روزانہ جتنی خوراک کی ضرورت ہوتی ہے وہ اُسے میسر نہیں ہے۔

اُدھر ایک بین الاقوامی ادارے ’انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ‘ کی جانب سے جاری کردہ بھوک کا شکار ممالک کی فہرست یعنی ’’گلوبل ہنگر انڈیکس‘‘ میں پاکستان 119 ممالک کی فہرست میں 106 ویں نمبر پر ہے۔

اس فہرست کے مطابق بھوک کے شکار ملکوں میں پاکستان کئی افریقی ممالک سے بھی پیچھے ہے۔

غذائی تحفظ کے بارے میں کام کرنے والے صاحب حق نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ خوراک تک رسائی مشکل ہو رہی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ملک میں وفاق اور صوبوں کی سطح پر خوراک دستیاب تو ہے لیکن مہنگائی کے سبب لوگوں کی قوت خرید متاثر ہوئی ہے جس سے لوگ غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو رہے ہیں۔

پاکستانی حکومت میں شامل عہدیداروں کا کہنا ہے کہ غذائی عدم تحفط دور کرنے کی کوشش جاری ہے جس کا مقصد ملک میں بسنے والے ان طبقوں تک خوراک کی فراہمی کو یقنی بنانا ہے جو غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے تناظر میں غذائی تحفظ ملک کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG