رسائی کے لنکس

لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا ہے کہ اگر 2015ء میں جب بچے کے اغوا اور زیادتی کا معاملہ سامنے آیا تھا اور اگر اس وقت تحقیقات کی جاتیں تو کم سن بچی زینب کے ساتھ ہونے والے واقعے کو رونما ہونے سے روکا جا سکتا تھا۔

انھوں نے یہ ریمارکس پیر کو زینب زیادتی و قتل کے از خود نوٹس کی سماعت کے دوران اس وقت دیے جب پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کے سربراہ نے عدالت کو بتایا کہ قصور میں بچوں سے زیادتی اور اغوا کے واقعات میں ملنے والا ڈی این اے (جینیاتی نمونہ) ایک ہی شخص کا ہے۔

فرانزک ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر اشرف طاہر نے دو رکنی بینچ کے سامنے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ زینب کے واقعے میں جینیاتی تجزیے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ اس سے زیادتی اور قتل میں وہی شخص ملوث ہونے جو اس سے پہلے ایسے واقعات کا ذمہ دار تھا۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر آپ نے بروقت کارروائی کی ہوتی تو زینب کے واقعے کو رونما ہونے سے روکا جا سکتا تھا۔

رواں ماہ کے اوائل میں سات سالہ بچی زینب کو اس کے گھر کے قریب سے اغوا کر لیا گیا تھا اور اس کی لاش پانچ روز بعد کچرے کے ایک ڈھیر سے ملی تھی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ بات ثابت ہوئی کہ بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد گلا دبا کر قتل کیا گیا۔

اس واقعے کے منظر عام پر آنے کے بعد پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی اور لاہور ہائی کورٹ کے علاوہ پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت نے بھی اس کا ازخود نوٹس لیا۔

پیر کو ہونے والی سماعت میں پنجاب پولیس کے سربراہ تو پیش نہیں ہوئے لیکن ان کی جگہ ایڈیشنل آئی جی ابوبکر خدابخش نے حاضر ہو کر رپورٹ پیش کی۔

چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب کی عدم موجودگی پر برہمی کا اظہار کیا جب کہ بینچ میں شامل دوسرے جج جسٹس صداقت کا کہنا تھا کہ ملزم کو گرفتار کرنے کے لیے دی گئی 36 گھنٹے کی مہلت گزر گئی ہے۔

بعد ازاں چیف جسٹس نے بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسز کی اسپیشل کورٹس میں روزانہ کی بنیاد پر سماعت کا کہتے ہوئے ایسے تمام کیسز کی تفصیل عدالت کو فراہم کرنے کا حکم دیا اور سماعت 17 جنوری تک ملتوی کر دی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG