رسائی کے لنکس

پاکستانی سیاست دان کروڑوں کی جائیدادوں کے مالک


بلاول بھٹو زرداری
بلاول بھٹو زرداری

انتخابات کے موقع پر کاغذات نامزدگی وہ دستاویز ہے جس کی وجہ سے ملک کے اہم سیاست دانوں کی جائیدادوں کی فہرست بھی سامنے آ جاتی ہے۔ ایک دوسرے پر اربوں روپے کی کرپشن کے الزامات لگانے والے سیاست دان ایک دوسرے کے کاغذات نامزدگی میں ظاہر کردہ جائیدادوں پر تبصرہ نہیں کرتے کیونکہ ان کے اپنی جائیدادوں کی معلومات بھی عوام کے سامنے لائی جاتی ہیں۔

الیکشن کمشن آف پاکستان نے اس سال تمام سیاست دانوں کے اثاثہ جات کی فہرست ویب سائٹ پر لگانے کا اعلان کیا ہے جبکہ گذشتہ الیکشن کے دوران یہ فہرست سیاست دانوں کے دباؤ پر کچھ وقت بعد ہی ہٹا لی گئی تھی۔

اگرچہ اثاثہ جات کی فہرست اس وقت الیکشن کمشن کی ویب سائٹ پر تو نہیں آئی البتہ ریٹرننگ افسران کے دفاتر سے ہی یہ تمام فہرستیں دستیاب ہیں جنہیں عام پبلک کی رسائی حاصل ہے۔

آصف علی زرداری

اب تک جن بڑے سیاست دانوں کے اثاثہ جات کی فہرست سامنے آئی ہے ان میں آصف علی زرداری سب سے زیادہ مال دار سیاست دان ہیں جنہوں نے اپنے کاغذات نامزدگی کے ساتھ حلف نامے میں اپنی جائیداد کی تفصيل دی ہے۔ اس کے مطابق سابق صدر نقد 75 کروڑ 86 لاکھ69 ہزار 73 روپے کے مالک ہیں۔ جبکہ 349 ایکٹر زرعی زمین بھی ان کی ملکیت ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے 7399 ایکٹر زرعی زمین ٹھیکے پر لے رکھی ہے۔

آصف علی زرداری کی سالانہ آمدنی تقریباً 12 کروڑ روپے رہی۔سال 2017ء میں آصف علی زرداری کو زراعت سے 13کروڑ 40 لاکھ 16ہزار 650 روپے کی آمدنی ہوئی جبکہ کاروبار سے انہوں نے 97 لاکھ 51 ہزار 400 روپے کمائے اور 26لاکھ 32 ہزار 490 روپے کا ٹیکس بھی ادا کیا۔

آصف علی زرداری
آصف علی زرداری

آصف زرداری 6 بلٹ پروف لگژری گاڑیوں اور ہزاروں ایکڑ اراضی کے مالک ہیں۔ پاکستان میں ان کی ایک درجن سے زائد جائیدادیں ہیں جب کہ محترمہ بینظیر بھٹو کی 5 جائیدادوں کے حصے دار بھی ہیں۔ دبئی کے شہر الصفا میں ایک پراپرٹی سمیت کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 8 میں ان کا ایک پلاٹ بھی ہے۔

آصف زرداری کے پاس 3 لینڈ کروزر، 2 بی ایم ڈبلیو اور ایک لیکسز ہے۔ یہ سب گاڑیاں بلٹ پروف ہیں۔ ان کے گھوڑوں اور مویشیوں کی مالیت 9کروڑ ہے جب کہ ان کے پاد ایک کروڑ 29 لاکھ روپے مالیت کا اسلحہ بھی ہے۔

آصف زرداری نے لینڈ مارکس میں ایک کروڑ 29 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری بھی کی ہے جبکہ 8لاکھ 90ہزار روپے کی سرمایہ کاری اپارٹمنٹ میں ہے۔

سابق صدر نے زرداری گروپ لمیٹڈ اور پارک لین ای اسٹیٹ لمیٹڈ میں 10 لاکھ 7 ہزار روپے کی سرمایہ کاری کی ہے جبکہ زرداری گروپ کو 45لاکھ روپے کا قرض بھی دے رکھا ہے۔

آصف زرداری کے پاس 20 کروڑ 90لاکھ روپے نقد، کلفٹن میں 2 جائیدادیں اور کراچی کے علاقے ڈیفنس میں بنگلہ اور نواب شاہ میں ایک گھر ہے۔

عمران خان

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی طرف سے جمع کروا ئی گئی فہرست کے مطابق انہوں نے گزشتہ سال47 لاکھ 76 ہزار 611 روپے آمدن ظاہر کی۔ عمران خان نے ذرائع آمدن میں زراعت، تنخواہ، پنشن اور بینک منافع ظاہر کیا، جب کہ وہ 168 ایکڑ زرعی زمین کے بھی مالک ہیں۔ اس کے علاوہ عمران خان نے گزشتہ سال اپنی آمدن پر 1لاکھ 3 ہزار 763 روپے ٹیکس ادا کیا۔

عمران خان نے غیر ملکی دوروں کی تفصیلات بھی کاغذات نامزدگی میں ظاہر کی ہیں۔ انہوں نے 2015 سے 2018 کے دوران 28 غیر ملکی دورے کیے جن میں سے زیادہ تر دورے اسپانسرڈ ہیں۔ انہوں نے کاغذات نامزدگی میں اہلیہ بشریٰ بی بی اور دونوں بیٹوں کو زیر کفالت ظاہر کیا جب کہ اہلیہ اور بچوں کے نام پر کوئی اثاثہ نہیں۔

عمران خان
عمران خان

کاغذات نامزدگی میں ظاہر کیے گئے اثاثوں کے مطابق عمران خان کو گزشتہ سال زرعی زمین پر 23 لاکھ 60 ہزار آمدن ہوئی اور انہوں نے 18 لاکھ 991 روپے تنخواہ بھی وصول کی۔ عمران خان کے پاس کوئی ذاتی گاڑی اور زیورات نہیں ہیں، جب کہ ان کے زیر استعمال فرنیچر سمیت دیگر اشیا کی مالیت 5 لاکھ روپے ہے۔ اس کے علاوہ عمران خان کے اسلام آباد میں 2 فارن کرنسی اکاؤنٹ ہیں جس میں سے ایک اکاؤنٹ میں 3 لاکھ 78 ہزار 760 ڈالر اور دوسرے میں 1470 ڈالر ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری

پاکستان پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو زرداری بھی امیر سیاست دان ہیں جن کی ملک کے 8شہروں میں جائیدادیں موجود ہیں۔ بلاول بھٹو کو دادا سے 6لاکھ 80ہزار روپے کی زرعی زمین کا تحفہ ملا جبکہ رتوڈیرو میں 181ایکڑ زمین کی مالیت 21لاکھ روپے ہے۔ اسلام آباد کے سیکٹرجی سکس میں بلاول بھٹو کا ایک بنگلہ ہے جس کی قیمت انہیں معلوم نہیں ۔

بلاول ہاؤس کراچی تحفے میں ملا جس کی مالیت اس مہنگائی کے دور میں بھی صرف 30لاکھ روپے ہے۔ ماڈل ٹاؤن لاهور میں بنگلہ مالیت 48لاکھ روپے،اسلام آباد سیکٹر جی سیون میں تحفے کا فلیٹ ہے جس کی قیمت صرف 14لاکھ روپے ہے۔ اسلام آباد میں تین بیش قیمت جائیداد تحفے میں ملیں جن کی مجموعی مالیت 80لاکھ روپے ہے۔

دبئی کے پوش علاقے میں بلاول بھٹو کے پاس 2ولاز کا33فیصد حصہ ہے۔ دادا اور والدین سے تحفے میں دو کمپنیوں میں حصہ داری ملی ہے۔ آصف علی زرداری نے تحفے میں 9لاکھ کے شیئرز پارک لین اسٹیٹس میں دئیے۔ بے نظیر بھٹو نے بلاول بھٹو کو 12لاکھ روپے کے ڈیفنس سرٹیفکیٹ دئیے۔ ان کے پاس 4کروڑروپے سے زائد نقد رقم بھی موجود ہے، جبکہ 25لاکھ روپے کا فرنیچربھی ان کی زیرملکیت ہے۔

مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد سابق وزیراعظم نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز نے جو تفصیلات جمع کروا ئی ہیں ان کے مطابق مریم نواز چوہدری شوگر ملز، حدیبیہ پیپر ملز، حدیبیہ انجنیرنگ پرائیویٹ لمیٹڈ، حمزہ اسپننگ ملز اور محمد بخش ٹیکسٹائل ملز سمیت پانچ ملوں کی شیئر ہولڈر ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں ان کی 1506 کنال ایک مرلہ زرعی زمین ہے، جب کہ انہوں نے اپنی فیملی کی زیر تعمیر فلور مل میں 34 لاکھ 62 ہزار کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔

مریم نواز
مریم نواز

مریم نواز نے سافٹ انرجی نامی کمپنی کو 70لاکھ روپے بطور قرض دے رکھا ہے جبکہ انہیں4 کروڑ 92 لاکھ روپے کے گفٹ ملے ہیں۔ مریم نواز کے پاس ساڑھے 17 لاکھ کی جیولری ہے ۔ وہ اپنے بھائی حسن نواز کی 2کروڑ 89لاکھ کی مقروض بھی ہیں۔ گزشتہ تین برسوں میں ان کی زرعی زمین میں 548 کنال کا اضافہ ہوا اور انہوں نے گزشتہ 3 برسوں میں 64 لاکھ روپے کے غیر ملکی دوروں پر خرچ کیے۔

خواجہ سعد رفیق

یہ سب مالی اثاثے تو رہے ایک طرف، سب سے دلچسپ معاملہ سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفيق کے ساتھ ہوا جنہوں نے آرٹیکل 63، 62 کی زد میں آنے سے بچنے کے لیے ایک عرصہ سے اپنا خفیہ اثاثہ یعنی اپنی خفیہ شادی کو ظاہر کردیا۔ خواجہ سعد رفيق نے پی ٹی وی کی ایک اینکر حرا شفق سے شادی کر رکھی تھی جوانہوں نے کاغذات نامزدگی میں ظاہر کردی ہے۔

اس حوالے سے تازہ اطلاعات کے مطابق سعد رفیق کی پہلی اہلیہ غزالہ سعد شدید برہم ہیں اور انہوں نے انتخابات میں اپنے جمع کروا ئے گئے کاغذات نامزدگی ہی واپس لے لیے ہیں۔

XS
SM
MD
LG