رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستانی امریکن طالب علموں کی سالانہ لیڈر شپ کانفرنس


پاکستانی امریکن طالب علموں کی سالانہ لیڈر شپ کانفرنس

امریکہ میں پاکستانیوں کی نئی نسل کو سیاسی اور انتظامی اداروں کاحصہ بنانے کی کوششوں کاسلسلہ تو کئی سال سے جاری ہے لیکن یوایس پاک فاونڈیشن کے نام سے قائم ایک تنظیم اس سلسلے میں خاص طورپر متحرک ہے اور گذشتہ سال اس کے تحت واشنگٹن کے کیپیٹل ہل پر پہلی یوتھ کانفرنس کا انعقاد کیا گیاتھا۔

تنظیم کے بانی اور منتظم عرفان ملک کا کہنا ہے کہ پچھلے سال اس کانفرنس میں بچوں کی دلچسپی کو دیکھ کر اس سال کانفرنس کا دورانیہ ایک دن سے بڑھا کر تین دن کردیا گیا اور اس میں زیادہ سے زیادہ پاکستانی حکومتی عہدے داروں کی شرکت یقینی بنانے کےساتھ وہائٹ ہاؤس ، امریکی پارلیمنٹ ، کانگریس اور پاکستانی سفارت خانے کے دورے بھی شامل کیےگئے۔

اس سال کانفرنس کے انعقاد میں ایک ذیلی تنظیم یو ایس پاک فاونڈیشن نے بھی حصہ لیا ۔ رشید چھوٹانی یو ایس پاک فاؤنڈیشن سے منسلک ہیں۔ ان کا کہناہے کہ وہ پاکستانی امریکن بچوں میں آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ ایڈمنسٹریشن اور قانونی اداروں میں کام کریں، ایگزیکٹیو برانچ کا حصہ بنیں اور پالیسی سازی میں ان کا ہاتھ ہو۔

اس مقصد کے لیے کانفرنس میں مختلف پینل مباحثوں کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں امریکہ کے حکومتی اور انتظامی اداروں میں کام کرنے والے نوجوان پاکستانیوں کو نوعمر طالب علموں سے براہ راست بات چیت کا موقع فراہم گیا۔

احسان ظفر امریکی داخلی سلامتی کے ادارے ہوم لینڈ سیکیورٹی میں مشیر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ان کا کہناتھا کہ میرے ماں باپ مجھے ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے لیکن میں نے بین الاقوامی امور اور پالیسی میکنگ کے بحث و مباحثوں میں حصہ لینا شروع کیا، اور یہاں تک پہنچا۔

نادیہ ناویوالا امریکی ادارے یو ایس ایڈ میں پاکستان ڈیسک پر کام کررہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ سے پاکستان کے لیے کچھ کرنا چاہتی تھیں ۔

اس سال اس کانفرنس کی خاص بات یہ رہی کہ پہلے دن اس میں 16 امریکی ریاستوں سے 175 پاکستانی امریکن بچوں نے شرکت کی جن میں اکثریت ہائی سکول کے بچوں کی تھی، جو اس وقت اپنی تعلیمی سمت کا تعین کرنے کے دور سے گزر رہے ہیں۔

کانفرنس کے پہلے دن کے اختتام پر بچوں کو پاکستانی سفارت خانے میں مدعو کیا گیا تھا ۔ اس موقع پرامریکہ میں پاکستانی سفیرحسین حقانی نے بچوں سے خطاب بھی کیا۔

عرفان ملک اور رشید چھوٹانی کا کہنا تھا کہ اگلے سال ان کی کوشش ہے کہ وہ اس کانفرنس کے دوران ویڈیو چیٹ کے ذریعے پاکستان میں موجود نوجوانوں کو بھی اس کا حصہ بنانے کی کوشش کریں گے۔

XS
SM
MD
LG