رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستانی کشمیر میں سرحدی آبادیوں کو حفاظتی بنکر بنانے کی ہدایت


لائن آف کنٹرول کے قریب واقع ایک آبادی،

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے ادارے سٹیٹ ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(ایس ڈی ایم اے) نے جنگ بندی لائن کے قریب بسنے والوں کو ممکنہ بھارتی فائرنگ سے بچنے کے لیے اپنی مدد آپ کے تحت حفاظتی خندقیں بنائے کی ہدایت کی ہے۔

ایس ڈی ایم کی طرف سے سرحدی اضلاع نیلم، جہلم ویلی' راولاکوٹ، حویلی کوٹلی اور بھمبر کے ڈپٹی کمیشنروں سے کہا گیا ہے کہ وہ جنگ بندی لائن سے ملحقہ علاقوں میں رہنے والوں کو آگاہ کریں کہ موجودہ ملکی حالات کے پیش نظر کسی بھی وقت انڈین آرمی کی جانب سے (ہدایت نامہ کے مطابق) کوئی شر پسندی کی جا سکتی ہے اس لئے جنگ بندی سے ملحقہ مواضعات اور بستیوں میں رہنے والے مکمل حفاظتی تدابیر اختیار کریں اور آمد و رفت کے لیے محفوظ راستے اختیار کریں۔ ہدایت نامے میں اجتماع سے بھی منع کیا گیا ہے۔ ایل او سی کے قریب واقع آبادیوں سے، جہاں بنکر نہیں ہیں، وہاں فوری طور پر بنکرز تعمیر کی ہدایت کی گئی ہے ۔

حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ رات کو غیر ضروری روشنی کرنے سے اجتناب کیا جائے۔ ایل او سی کے قریب واقع سٹرکوں پر غیر ضروری سفر سے گریز کیا جائے۔ لائن آف کنٹرول کے قریب واقع چراگاہوں میں مویشی لے جانے سے اجتناب کا مشورہ دیا گیا ہے۔

ایس ڈی ایم کے ناظم راجہ سجاد خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ سرحدی علاقوں میں لوگوں کو فوری طور پر اپنی مدد آپ کے تحت مورچے تعمیر کرنے پڑیں گئے تاکہ وہ ہنگامی صورت حال میں خود کو محفوظ رکھ سکیں۔

جنگ بندی لائن کے قریبی علاقوں میں غربت اور پسماندگی عام ہے۔ وہاں زیادہ تر لوگ محنت مزدوری کر کے گزر بسر کرتے ہیں۔

سرحدی قصبہ چکوٹھی کے ایک رہائشی قاری عبدالرحیم کہتے ہیں کہ ان علاقوں میں لوگوں کے پاس مورچوں کی تعمیر کے لیے مالی وسائل موجود نہیں ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت حفاظتی مورچوں اور خندقوں کی تعمیر کے لیے مقامی آبادیوں کے ساتھ مالی تعاون کرے۔

قاری عبدالرحیم نے کہا کہ سرحدی علاقوں کے طبی مراکز کے عملے کے تحفظ کا بندوبست کیا جائے اور حالات کے پیش نظر سرکاری اسپتالوں میں ضروری سہولتیں مہیا کی جائیں۔

چکوٹھی کے ایک اور رہائشی محمود احمد کا کہنا ہے کہ محنت مزدوری سے بمشکل اس کے گھر کا چولہا جلتا ہے۔ اور اس کے پاس اپنے گھر کی چھت پختہ کرانے کے لیے بھی مالی وسائل موجود نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سرحدی علاقوں کی 90 فی صد آبادیوں کے پاس بنکر اور پناہ گاہیں نہیں ہیں۔

اسی قصبے کی ایک خاتون نبیلہ شمیم نے بتایا کہ اس نے تین سال پہلے اپنی بھینس بیچ کر ایک بنکر بنوایا تھا۔

حکام کے مطابق پاکستانی کنٹرول کے کشمیر کی سات لاکھ سے زیادہ آبادی جنگ بندی لائن یا ایل او سی کے ساتھ رہتی ہے، جو آئے روز حد بندی پار کی گولہ باری اور فائرنگ کی زد میں آتی رہتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG