رسائی کے لنکس

logo-print

نریندر مودی کے دوبارہ وزیر اعظم بننے پر پاکستانی کشمیری رہنماؤں کی تشویش


جموں و کشمیر میں ورکنگ باؤنڈری پر لگی باڑ۔ فائل فوٹو

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سیاسی رہنماؤں نے حالیہ بھارتی انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی اور نریندر مودی کے دوسری مدت کے لیے وزیر اعظم بننے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مودی کے دوبارہ برسر اقتدار آنے کے بعد خطے میں جاری کشیدگی میں اضافہ ہو گا۔

حزب اختلاف اور حزب اقتدار کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں سمیت خود مختار کشمیر کی حامی قوم پرست تنظیموں نے بھی ان خدشات کا اظہار کیا ہے کہ بھارتی انتخابات میں بی جے پی کی نمایاں کامیابی کے بعد دوسری مدت کے لیے نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے سے یہ امکان کم ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی میں کمی آئے گی۔

جمعہ کے روز وائس آف امریکہ سے گفتگو میں حزب مخالف کی جماعت پیپلز پارٹی کے پاکستانی کشمیر کے سربراہ چوہدری لطیف اکبر نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مودی کا دوبارہ وزیر اعظم بننا پاکستان اور کشمیریوں کے لیے کوئی اچھی خبر نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مودی کا وزیراعظم عمران خان کو حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی دعوت نہ دینا اس جانب اشارہ ہے کہ مستقبل میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں بہتری کی توقع کم ہے۔

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے سینئر نائب صدر اور سنیئر وزیر چوہدری طارق فاروق نے کہا کہ مودی کے دوبارہ برسراقتدار آنے سے کشمیر میں جنگ بندی لائن پر کشیدگی میں اضافہ ہو گا۔

تاہم پاکستان میں برسر اقتدار جماعت تحریک انصاف کے پاکستانی کشمیر میں سینئر رہنما خواجہ فاروق کا خیال ہے کہ عالمی دباؤ کی وجہ سے اس بار وزیراعظم مودی کو اپنے ہمسایہ ملک پاکستان کے ساتھ کشیدگی میں کمی لانی پڑے گی۔

پاکستان اور بھارت سے علیحدگی اور خودمختاری کی حامی جماعت جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے پاکستانی کشمیر اور گلگت زون کے سربراہ ڈاکٹر توقیر گیلانی کہتے ہیں کہ مودی کے دوبارہ اقتدار میں آنے سے کشمیر کے حالات مزید خراب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

پاکستانی کشمیر کے جمعیت علماء اسلام کے سربراہ سعید یوسف نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے عوام نے حالیہ انتخابات میں انتہا پسندانہ سوچ کو ووٹ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں دنیا کے طرز عمل پر حیرت ہے کہ ان کی جانب سے کسی تشویش کا اظہار نہیں کیا جا رہا۔

سعید یوسف کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر گزشتہ کچھ عرصے کے دوران کشیدگی بڑھانے کا مقصد انتخابات میں مطلوبہ نتائج حاصل کرنا تھا۔

پاکستانی کنٹرول کے کشمیر کے رہنماؤں کو یہ خدشات بھی ہیں کہ آنے والے دنوں میں کشمیر کے علاقے میں صورت حال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG