رسائی کے لنکس

پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے 'ایف آئی اے'کے حکام نے پنجاب کے شہر سرگودھا سے ایک ایسے شخص کو حراست میں لیا ہے جو مبینہ طور پر بچوں سے متعلق غیر اخلاقی وڈیوز بنا کر انہیں بیرون ملک فروخت کرنے کے کام میں ملوث تھا۔

حراست میں لیے گئے 45 سالہ ملزم جس کا نام سعادت امین بتایا جاتا ہے، نے کمپیوٹر کی تعلیم دینے کا جھانسا دے کر لگ بھگ 25 بچوں کو مبینہ طور پر اس کام میں استعمال کیا۔

’ایف آئی اے‘ کے حکام نے گزشتہ روز ملزم سعادت امین کو مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کر کے اس کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا۔

ابتدائی تفتش کے دوران ’ایف آئی اے‘ کے سامنے دیئے گئے اپنے بیان میں ملزم نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ گزشتہ چند سالوں سے بچوں سے متعلق مبینہ طور پر فحش مواد بیرون ملک فروخت کر رہا تھا۔

ایف آئی کے سائبر کرائمز سے متعلق شعبے نے اسلام آباد میں ناروے کے سفارت خانے کی طرف سے وزارت داخلہ کو فراہم کی جانے والی معلومات کی بنیاد پر سعادت امین کے خلاف کارروائی کی۔

ان معلومات کے مطابق ناروے کی پولیس نے بچوں سے متعلق پورنو گرافک فلموں کی معاملے پر جیمز لنڈسٹورم نامی شخص کو حراست میں لیا جس نے اس بات کا اقرار کیا کہ وہ یہ فلمیں پاکسستانی شہری سعادت امین سے حاصل کرتا تھا۔

ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ملزم ایک ماہر ہیکر ہے اور وہ بچوں سے متعلق پورنو گرافک مواد ویب سائٹس سے چرا کر بیرون ملک فروخت کرتا تھا۔

دو سال قبل صوبہ پنجاب کے ضلع قصور اور پھر خیبر پختونخواہ میں ایسے متعدد واقعات پیش آئے جن میں نا صرف بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا بلکہ ان کی وڈیوز بنا کر ان کا استحصال کیا گیا۔

ان واقعات کے بعد ملک کے سیاسی و سماجی حلقوں کی طرف ایسے جرائم میں ملوث افراد کے لیے سزاؤں کو سخت کرنے کے مطالبات بھی سامنے آئے۔

پنجاب حکومت کے بچوں کے تحفظ اور فلاح سے متعلق ادارے کی چئیر پرسن صبا صادق نے جمعرات کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایسے واقعات پر سخت تشویش ہے۔

''ہماری ٹیم اس کی تحقیق کر رہی ہے اور پولیس کے ساتھ ہم رابطے میں ہیں کہ ان واقعات کی روک تھام کی جائے ۔۔۔ اور قانون میں حال ہی میں جو ترامیم ہوئیں ہیں ان کے تحت پاکستان کے ضابطہ فوجداری میں نئی دفعات شامل کی گئی ہیں اور ان کے تحت سزائیں بھی سخت ہیں اور حکومت ایسے واقعات کو نظر انداز نہیں کرے گی۔"

بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم سینیئر قانون دان انیس جیلانی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ مجرم سزا سے نا بچ سکیں۔

"سزا تو یقیناً ملنی چاہیے۔۔۔ اگر آپ مجرم کو سزا نہیں دیں گے تو بنیادی طور ایسے دوسرے عناصر کی حوصلہ افزائی ہو گی کہ وہ بھی اس قسم کا جرم کریں۔۔۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ سزا دینے سے ایسے واقعات کم ہو جائیں گے لیکن سزا دنیا ضروری ہے۔"

تاہم انیس جیلانی نے کہا کہ جہاں والدین اور بچوں کو آگاہ کرنا ضروری ہے کہ وہ ایسے واقعات سے کس طرح محفوظ رہ سکتے ہیں، وہیں تعلیمی اداروں میں بچوں کو ان واقعات کے مضمرات سے آگاہ کرنا ضروری ہے تاکہ وہ ایسے افراد کے ہاتھوں استحصال کا شکار نا ہوں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG