رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی میں دہشت گردی کی سازش بے نقاب، پانچ مشتبہ افراد زیر حراست


فائل

انسداد دہشت گردی کے صوبائی حکام نے کچھ تفصیل کا انکشاف کیا ہے،جسے انٹیلی جنس کی بنیادوں پر کارروائی قرار دیا گیا ہے؛ اور کہا ہے کہ زیر حراست لیا گیا پروفیسر اہم مشتبہ فرد ہے۔ اُنھوں نے پروفیسر کی شناخت ظاہر نہیں کی

پاکستان میں حکام نے داعش کے پانچ مشتبہ کارندوں کو گرفتار کیا ہے، جن کے لیے بتایا جاتا ہے کہ وہ بغیر پائلٹ کے طیاروں میں نصب کردہ دھماکہ خیز اسلحے یا ڈرون کی مدد سے کراچی میں دہشت گرد حملوں کا منصوبہ تیار کر رہے تھے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، مشتبہ افراد میں یونیورسٹی کا ایک پروفیسر بھی شامل ہے، جنھیں پیر کی صبح انسداد دہشت گردی کی فورسز نے بندرگاہ والے اس شہر میں حراست میں لیا۔

انسداد دہشت گردی کے صوبائی حکام نے کچھ تفصیل کا انکشاف کیا ہے، جسے انٹیلی جنس کی بنیادوں پر کارروائی قرار دیا گیا ہے؛ اور کہا ہے کہ زیر حراست لیا گیا پروفیسر اہم مشتبہ فرد ہے۔ اُنھوں نے پروفیسر کی شناخت ظاہر نہیں کی۔

پروفیسر کے لیے بتایا جاتا ہے کہ اُن کا تعلق لاہور کی یونیورسٹی آف انجنئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سے ہے۔ اطلاعات کے مطابق، زیر حراست لیے گئے افراد میں اُس پروفیسر کی ایک خاتون رشتہ دار بھی شامل ہے۔

اِن گرفتاریوں پر رد عمل کے لیے فوری طور پر سرکاری حکام دستیاب نہیں تھے۔

حالیہ مہینوں کے دوران، مہلک حملوں کی ذمہ داری شام میں قائم دہشت گرد گروپ کے حامیوں نے قبول کی ہے۔ اِن میں فروری میں سندھ کے ایک صوفی بزرگ کی مزار پر خود کش بم حملہ شامل ہے۔

اس خود کش حملے میں تقریباً 90 افراد ہلاک جب کہ سینکڑوں زخمی ہوئے، جب کہ داعش کے عالمی میڈیا کے دھڑے، ’عمق نیوز ایجنسی‘ نے اس قتل عام کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

تب سے، پاکستانی افواج نے ملک بھر میں مارے گئے چھاپوں کے دوران داعش کے درجنوں مشتبہ شدت پسند حراست میں لیے ہیں۔ تاہم، حکام اس بات پر زور دیتے ہیں کہ پاکستان میں یہ دہشت گرد گروپ ’’باضابطہ طور پر منظم ‘‘نہیں ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG