رسائی کے لنکس

logo-print

ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان، سیکس ورکرز کے بچوں کی تعلیم متاثر ہونے کا اندیشہ


لاہور کی ہیرا منڈی میں 'اپنی تعلیم' منصوبے پر کام کرنے والی تنظیم کا اکاؤنٹ بھی بین الاقوامی فنڈنگ کی وجہ سے منجمد کر دیا گیا ہے

'ایک ماہ بھی تنخواہ نہ ملے تو گھروں میں مشکلات آ جاتی ہیں۔ بچوں کی فیس نہیں دی جاتی۔ گھر کا کرایہ نہیں دیا جا رہا۔ بل نہیں دیے جا رہے۔ باقی سارے خرچے کہاں سے پورے کریں'۔

یہ الفاظ ہما ندیم کے ہیں جو لاہور کے علاقے ہیرا منڈی میں غیر سرکاری تنظیم 'شیڈ سوسائٹی' کے قائم کردہ اسکول میں بحیثیت ٹیچر پڑھاتی ہیں۔ جنہیں چار ماہ سے تنخواہ نہیں ملی جبکہ وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔

غیر سرکاری تنظیم کے منصوبے 'اپنی تعلیم' کے تحت لاہور کے علاقے ہیرا منڈی میں سیکس ورکرز کے بچوں کو غیر رسمی تعلیم دی جاتی ہے۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے دیے گئے ایکشن پلان پر عمل درآمد کرتے ہوئے پاکستانی حکومت نے بین الاقوامی فنڈنگ سے چلنی والی این جی اوز کے بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے ہیں جبکہ ہیرا منڈی میں کام کرنے والی اس غیر سرکاری تنظیم کا بینک اکاؤنٹ بھی 'اپنی تعلیم' منصوبے کے لیے حاصل ہونے والی بین الاقوامی فنڈنگ کی وجہ سے منجمد کر دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے ایک ایکشن پلان دیا گیا ہے۔ پاکستان کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے اگلے سال فروری تک ٹھوس اقدامات اٹھانے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے اسکول میں پڑھانے والی ہما ندیم کا کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے اکاؤنٹ بند کیے جانے کی وجہ سے بہت پریشانی ہے۔ بچوں کی پڑھائی کے مسئلے ہیں۔ ہم کہاں سے ان کے اسکول کی فیس ادا کریں۔ گھر کا کرایہ کہاں سے دیں۔

ہیرا منڈی میں رہائش پذیر سیکس ورکرز کے بچوں کے لیے قائم کردہ اسکول میں اس وقت 45 طلبہ زیر تعلیم ہیں جبکہ بچوں کو ابتدائی تعلیم دیے جانے کے بعد سرکاری اسکولوں میں داخل کروا دیا جاتا ہے۔

اسکول میں بچوں کو کیسے لایا جاتا ہے؟

اسکول میں علاقے کے بچوں کو لانے اور ان کے والدین کو ان کی تعلیم کے لیے راضی کرنے کی ذمہ داری پروین اختر کی ہے۔

پروین اختر کا کہنا ہے کہ وہ شروع سے ہی وہاں کی رہنے والی ہیں جبکہ علاقے کے سب لوگ ان کے جاننے والے ہیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ میں لوگوں کے گھروں میں جاتی ہوں اور انہیں سمجھاتی ہوں۔ جو واقف ہوتے ہیں وہ تو مان جاتے ہیں لیکن جو نئے لوگ علاقے میں آکر آباد ہوئے ہیں۔ وہ نہیں مانتے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے پروین اختر نے کہا کہ آج کل کے بچے گیمز کے دیوانے ہیں۔ انہیں بار بار لانا پڑتا ہے۔ کبھی وہ آتے ہیں اور پھر بھاگ جاتے ہیں۔ بہت ہی مشکل سے بچے اکٹھے ہوتے ہیں۔

والدین کو بچوں کی تعلیم سے متعلق راضی کرنے کے طریقہ کار پر پروین اختر کا کہنا تھا کہ وہ انہیں سمجھاتی ہیں کہ اپنے بچوں کو پڑھاؤ۔ تاکہ وہ پڑھ لکھ کر کسی دفتر میں لگ سکیں اور تمھارے بڑھاپے کا سہارا بن سکیں۔

ان کے بقول جب کوئی سخت بندہ ہوتا ہے تو وہ کہہ دیتا ہے کہ رہنے دو۔ ہم نے بچوں کو گھر کے سودا سلف لانے کے لیے رکھنا ہے۔ اگر بچے پڑھنے چلے گئے تو سودا کون لائے گا۔

وہ مزید کہتی ہیں کہ اسکول میں پڑھنے والے بچے کمانے والیوں (سیکس ورکرز) کے ہیں اور جب ہمیں یہ بچے گھروں میں نہیں ملتے تو ہم باغوں میں جا کر ڈھونڈتے ہیں۔ پھر انہیں پکڑ کر لاتے ہیں۔

اسکول میں زیر تعلیم بچے

اسکول میں زیر تعلیم بچوں کو عمروں کے حساب سے کلاس اے اور کلاس بی میں تقسیم کیا گیا ہے۔ جنہیں بنیادی تعلیم کے علاوہ زندگی بسر کرنے کے طور طریقے بھی سکھائے جاتے ہیں۔

کلاس بی میں زیر تعلیم آٹھ سالہ افضل کا کہنا ہے کہ ہمیں ٹیچر یہاں پر بہت کچھ سکھاتی ہیں۔ ہمیں لکھاتی ہیں، پڑھاتی ہیں۔ یہ ہمیں اے بی سی، پرندوں کے نام، جانوروں کے نام، پھلوں کے نام بھی سکھا رہی ہیں۔

سات سالہ پری کا کہنا تھا کہ وہ پڑھ لکھ کر ٹیچر بننا چاہتی ہیں جبکہ حمنہ فاطمہ کا کہنا ہے کہ وہ پڑھ لکھ کر ڈاکٹر بنیں گی اور لوگوں کی خدمت کریں گی۔

'چھوٹی این جی اوز کو متاثر نہیں کیا جانا چاہیے تھا'

غیر سرکاری تنظیم کے کے چیئرمین سید طیب حسن شاہ نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ایف اے ٹی ایف کا کوئی مسئلہ چل رہا ہے اور اس کا فروری میں اجلاس ہونے والا ہے۔ اس کی وجہ سے حکومت نے اکاؤنٹس بند کیے ہیں۔

سید طیب حسن شاہ کا مزید کہنا تھا کہ اگر ایف اے ٹی ایف کی وجہ سے بھی حکومت نے اکاؤنٹس منجمد کیے ہیں تو کم از کم چھوٹی این جی اوز کو متاثر نہیں کیا جانا چاہیے تھا کیونکہ حکومت کے اس اقدام سے براہ راست بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔

'منجمد بینک اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال جاری'

ایف اے ٹی ایف کے پاکستان کو دیے گئے ایکشن پلان پر عمل درآمد کرتے ہوئے این جی اوز کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے سے متعلق صوبہ پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ منجمد کردہ بینک اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔

راجہ بشارت — فائل فوٹو
راجہ بشارت — فائل فوٹو

وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت کا مزید کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان میں بیرون ملک سے فنڈنگ حاصل کرنے والی این جی اوز کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا گیا تھا۔ تو اس پیرائے میں حکومت نے یہ فیصلہ کیا کہ ان این جی اوز کی کارکردگی کو دیکھا جائے۔ جس کی وجہ سے ان این جی اوز کے بینک اکاؤنٹس منجمد کیے گئے تھے۔

خیال رہے کہ رواں ہفتے جمعے کے روز ایف اے ٹی ایف کی طرف سے دیے گئے ایکشن پلان پر عمل درآمد کرتے ہوئے ہی لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید پر دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے کے الزام پر فرد جرم عائد کی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG