رسائی کے لنکس

logo-print

منیٰ سانحہ، ایران کا سعودی عرب سے معافی مانگنے کا مطالبہ


ایران کے رہبر اعلیٰ علیٰ خامنہ ای نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ منیٰ میں بھگدڑ مچنے سے ہونے والی ہلاکتوں پر سعودی عرب کو ذمہ داری قبول کرتے ہوئے معافی مانگی چاہیے۔

ایران کے رہبر اعلیٰ علیٰ خامنہ ای نے سعودی عرب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ منیٰ میں بھگدڑ مچنے سے ہونے والی ہلاکتوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے واقعے پر معافی مانگے۔

ایرانی رہنما نے اتوار کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس معاملے کو بھلایا نہیں جائے گا اور اقوام اس کو سنجیدگی سے لیں گی۔

اپنے بیان میں علی خامنہ ای نے مزید کہا ہے کہ ’’ادھر اُدھر الزام لگانے کے بجائے سعودی عرب کو واقعے کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے اور مسلمانوں اور متاثرہ افراد کے خاندانوں سے معافی مانگی چاہیے۔‘‘

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق بھگدڑ کے دوران ہلاک ہونے والوں میں ایران کے 150 سے زائد شہری بھی شامل ہیں۔

واقعے کے خلاف ایران میں سعودی عرب کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے ہیں جب کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر بھی ایران اور سعودی عرب کے حامی افراد کے درمیان واقعے پر الزامات کا تبادلہ جاری ہے۔

اس سے قبل ہفتے کو ایران کے صدر حسن روحانی نے نیویارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے کہا تھا کہ وہ منیٰ میں بھگدڑ مچنے اور حج کے دوران پیش آنے والے اس طرح کے واقعات کی تحقیقات کرے۔

سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل بن احمد الجبیر نے نیویارک میں ایک بیان میں ایران کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سانحے پر ایرانیوں کو سیاست نہیں کرنی چاہیے۔

سعودی عرب کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت نے منیٰ کے واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

سعودی عہدیدار یہ کہہ چکے ہیں کہ بظاہر اس واقعے کی وجہ حج کے لیے وضع کردہ حفاظتی ہدایات پر حجاج کی طرف سے عمل نہ کرنا ہو سکتی ہے لیکن اس کی مکمل تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

رواں سال دنیا بھر سے 20 لاکھ سے زائد حجاج سعودی عرب پہنچے ہیں اور منیٰ میں پیش آنے والا واقعہ گزشتہ 25 برسوں کے دوران حج کے موقع پر ہونے والا سب سے ہلاکت خیز واقعہ ہے۔

1990ء میں منیٰ ہی میں بھگدڑ مچنے سے 1400 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

دریں اثنا پاکستانی عہدیداروں نے اتوار کو تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب میں مناسک حج کے دوران بھگدڑ مچنے سے ہلاک ہونے والے پاکستانیوں کی تعداد 18 ہو گئی ہے جب کہ 20 پاکستانی شہری زخمی ہیں۔

اُدھر سعودی حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ جمعرات کو منیٰ بھگدڑ مچنے سے ہلاکتوں کی تعداد 769 ہو گئی ہے اور 934 افراد زخمی ہیں۔

سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر منظور الحق نے اتوار کو پاکستان کے سرکاری میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ لاپتہ پاکستانی شہریوں کی تلاش کے لیے بھرپور کوشش کی جا رہی ہے۔

’’135 پاکستانی ہم مل چکے ہیں، جو واپس آ کر اپنے خاندان سے ملے اور یہ سلسلہ اب تھی جاری ہے۔‘‘

واضح رہے کہ گزشتہ جمعرات کو منیٰ میں حج کے رکن ’’رمی جمرات‘‘ جسے عام طور پر ’’شیطان کو کنکریاں‘‘ مارنا بھی کہا جاتا ہے، اس رکن کی ادائیگی کے دوران اچانک بھگدڑ مچنے کے بعد بیسوں پاکستانی شہری لاپتہ بھی ہو گئے تھے۔

سرکاری طور پر لاپتہ ہونے والے حجاج کی تعداد تو نہیں بتائی گئی لیکن ذرائع ابلاغ کے مطابق ایسے پاکستانیوں کی تعداد لگ بھگ 300 سو تھی جن کا اپنے ساتھیوں اور رشتہ داروں سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔

اُدھر وزیراعظم نواز شریف نے ایک بار پھر سعودی عرب میں پاکستانی عہیداروں کو ہدایت کی کہ لاپتہ پاکستانیوں کی تلاش کے لیے جاری کوششوں میں کوئی کسر اٹھا نا رکھی جائے۔

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے مذہبی اُمور سردار یوسف بھی اس وقت سعودی عرب میں ہیں اور اُن کا کہنا ہے کہ مکہ کی تمام اسپتالوں اور دیگر متعلقہ جگہوں پر پہنچ کر پاکستانیوں سے متعلق معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔

XS
SM
MD
LG