رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان کے دشمن، پاکستان کے دوست نہیں ہو سکتے: نواز شریف


دونوں ملکوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ خطے میں استحکام اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک دہشت گردی کی لعنت کا مکمل خاتمہ نہیں کر دیا جاتا۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے افغان صدر اشرف غنی کو یہ یقین دہانی کروائی ہے کہ افغانستان کے دشمن پاکستان کے دوست نہیں ہو سکتے۔

وزیراعظم نواز شریف نے یہ بیان منگل کو افغانستان کے دورے کے موقع پر دیا جہاں پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے افغان قیادت سے تفصیلی مذاکرات کیے۔

دونوں ملکوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ خطے میں استحکام اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک دہشت گردی کی لعنت کا مکمل خاتمہ نہیں کر دیا جاتا۔

دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات منگل کو کابل میں ہوئے، وزیراعظم نواز شریف اور فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے افغان قیادت سے خطے کی صورت، خاص طور پر دہشت گردی سے نمٹنے سے متعلق تفصیلی بات چیت کی۔

افغانستان کے دورے کے موقع پر پاکستانی وزیراعظم نواز شریف نے صدر اشرف غنی کے ہمراہ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ اُنھیں یقین ہے کہ مکمل عزم اور دونوں ممالک کی مربوط کوششوں سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں کامیابی مل سکتی ہے۔

اس موقع پر افغان صدر نے بھی وزیراعظم نواز شریف کو دہشت گردی کے خلاف مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔

صدر اشرف غنی نے کہا کہ افغانستان کے دشمن پاکستان کے دشمن ہیں اور پاکستان کے دشمن افغانستان کے دشمن ہیں۔

وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستانی وفد کے افغان قیادت سے ہونے والے مذاکرات میں دونوں ملکوں کو درپیش چیلنجوں اور دیگر مشترکہ اُمور پر بات چیت کی گئی۔

اُنھوں نے کہا کہ دونوں ملک اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ تمام فریقوں کی شمولیت سے افغانستان میں مصالحتی عمل کے بغیر دیرپا امن خواب پورا نہیں ہو سکتا۔

پاکستانی وزیراعظم نے افغانوں کی زیر قیادت مصالحتی عمل کے لیے اپنی حکومت کی جانب سے مکمل حمایت کی یقین دہانی کروائی۔

پاکستانی وزیراعظم نے افغانستان میں تشدد کی کارروائیوں میں تیزی اور افغان طالبان کی طرف سے ’عزم‘ نامی کارروائیوں کی شدید مذمت کی۔

اُنھوں نے کہا کہ اس طرح کے حملوں کو دہشت گردی کی کارروائیوں کے طور پر دیکھا جائے گا اور پاکستان ان کی سختی سے مذمت کرتا ہے۔

وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ دہشت گردوں کی تمام پناہ گاہیں جن کا علم ہو گا اُنھیں براہ راست کارروائی کر کے مسمار کیا جائے گا اور موجودہ طریقہ کار کے تحت اُن کی نگرانی کی جائے گی۔

اُنھوں نے کہا افغانستان کو غیر مستحکم کرنے کے حوالے سے دہشت گردوں یا کسی بھی گروپ کی طرف سے کی جانے والی کارروائیوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے تناظر میں دونوں ملک باہمی تعاون کے ساتھ ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

وزیراعظم نواز شریف نے ایک مرتبہ پھر اپنی حکومت کے اس موقف کو دہرایا کہ پاکستان افغانستان میں عدم مداخلت کی پالیسی پر کاربند رہے گا اور دونوں ملک اپنی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

مذاکرات میں تجارت، مواصلات، توانائی اور سڑک و ریلوے کے ذریعے رابطوں کو وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

جون 2013ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستانی وزیراعظم کا یہ دوسرا اور گزشتہ سال افغانستان میں قومی اتحادی حکومت بننے کے بعد پہلا دورہ کابل تھا۔

اس سے قبل نواز شریف 30 نومبر 2013ء کو کابل گئے تھے۔

پاکستانی وزیراعظم نے منگل کو اس دورے کے دوران افغان صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سے الگ، الگ ملاقاتوں کے علاوہ وفود کی سطح پر بھی مذاکرات کیے۔

دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان حالیہ مہینوں میں تعلقات میں قابل ذکر بہتری دیکھنے میں آئی ہے اور اس دوران کئی اعلیٰ سطحی وفود ایک دوسرے کے ملک کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔

منگل کو اس دورے میں بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے علاوہ وفاقی وزیرخزانہ اسحق ڈار، مشیر برائے امور خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز، امور خارجہ کے معاون خصوصی طارق فاطمی، سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری دیگر اعلیٰ عہدیدار بھی کابل گئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG