رسائی کے لنکس

logo-print

سندھ میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر، کراچی میں مزید پانچ ہلاک


صوبہٴ سندھ اِن دنوں ملکی سیاست کا گڑھ بنا ہوا ہے ۔ایک جانب صدر آصف علی زرداری کراچی میں قیام کے دوران آئندہ انتخابات کیلئے اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں تو دوسری جانب مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف بھی سندھ کی دھرتی پر سرگرم عمل ہیں ۔ادھر حکومتی کوششوں کےباوجود، سندھ کے ہی شہر کراچی میں امن و امان کی حالت دن بدن بگڑتی جا رہی ہے اورجمعرات کو رینجرز اہلکار سمیت مزید پانچ افراد لقمہٴ اجل بن گئے ۔
صدر آصف علی زرداری نے گزشتہ پانچ دنوں سے کراچی میں ڈیرہ ڈالا ہوا ہے۔اس کا ایک مقصد تو کراچی میں قیام امن اور ایم کیو ایم کے ساتھ مختلف مسائل کوحل کرنا ہے تو ساتھ ہی وہ آئندہ انتخابات کی حکمت عملی کیلئے بھی کوشاں ہیں ۔ جمعرات کو کراچی میں اراکین سندھ اسمبلی سے ملاقات میں صدر زرداری نے اعلان کیا کہ آئندہ انتخابات میں بھی مفاہمتی پالیسی جاری رکھی جائے گی ۔اِس موقع پر اُنہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایم کیو ایم واضح کر چکی ہے کہ وہ سندھ کی تقسیم نہیں چاہتی ۔
آصف علی زرداری نے اراکین سندھ اسمبلی کو ہدایت کی کہ آئندہ آٹھ ماہ تک عوام کو بھر پور ریلیف ملتا ہوا نظر آنا چاہیئے ۔ صدر نے کراچی میں مہاجر صوبے کی وال چاکنگ سے متعلق کہا کہ پیپلزپارٹی نے جب جنوبی پنجاب صوبے کی بات کی ، اس وقت سے سازش کے تحت سندھ کی تقسیم کا شوشا چھوڑا گیا ۔ اس معاملے میں وہ قوتیں سرگرم ہیں جن کے پنجاب میں مفاد ات متاثر ہو رہے ہیں ۔
علاوہ ازیں صدر نے بلاول ہاؤس میں نئے پیرصاحب پگارا سے بھی ملاقات کی جس میں اتفاق کیا گیا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ فنکشنل آئندہ انتخابات مل کر لڑیں گی ۔اس حوالے سے چار رکنی کوآرڈ ی نیشن کمیٹی کے قیام پر بھی اتفاق کیاگیا۔
تین روز قبل پیرصاحب پگارا سے مسلم لیگ ق سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر غوث بخش مہر ،گھوٹکی میں مہر گروپ کے سربراہ سردار علی گوہر مہر، ناصر علی شاہ، رحیم بخش بذدار ، شیرازی گروپ کے شفقت شاہ شیرازی، محمد علی ملکانی، نیشنل پیپلزپارٹی کے صدر غلام مرتضی جتوئی، عارف مصطفی جتوئی اور دیگرنے ملاقات کی تھی ۔ملاقات میں پیر پگارا کی قیادت میں آئندہ انتخابات کیلئے اتحاد بنانے پر اتفاق کیا گیاتھا ۔
مبصرین کے مطابق فنکشنل لیگ کےقائدین کی رواں ہفتے سرگرمیوں کے بعد پیپلزپارٹی سے مثبت پیش رفت یہ بات واضح کرتی ہے کہ دونوں جماعتیں اندرون سندھ مسلم لیگ ن کیلئے کوئی خلا باقی نہیں چھوڑنا چاہتیں اور بظاہر جن قوم پرستوں کی ہمدردیاں مسلم لیگ ن کے ساتھ نظر آ رہی ہیں ان کے بارے میں پیپلزپارٹی کا خیال ہے کہ ان کی سندھ میں کوئی حیثیت نہیں اور عوام انہیں ووٹ نہیں دیتے ۔
دوسری جانب جمعرات کو ہی مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف نے ایک بار پھر سندھ کا دورہ کیا اور اس مرتبہ ماتلی میں جلسہ عام سے خطاب کیا ۔ نواز شریف نےپیپلزپارٹی کی قیادت پر کڑی تنقید کی اورعوام سے کہا کہ اگر آپ ان کے بجائے ہماری جماعت کو ووٹ دیتے تو آج اتنے مسائل نہ ہوتے ۔
نواز شریف نے کراچی میں قوم پرستوں کی سندھ محبت ریلی پر فائرنگ سے متعلق کہا کہ اتنا بڑا واقعہ ہو گیا لیکن حکومت کو کوئی پروا نہیں ۔ انہوں نے صدر زرداری اور وزیراعظم گیلانی کا نام لیتے ہوئے کہا کہ مہربانی کر کے قوم کی جان چھوڑدیں ،عوام آپ کو ووٹ دے کر بہت پشیمان ہیں ۔
نواز شریف نے پھر کہا کہ وہ سندھ کی کسی صورت تقسیم نہیں چاہتے ، جب وہ وزیراعظم تھے تو سندھ سے ڈاکو راج ختم کر دیا تھا لیکن آج کے حکمراں ووٹ لے کر عوام کو بھول چکے ہیں ، سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے حکمراں نہیں پہنچے بلکہ نواز شریف پہنچا اور پنجاب حکومت نے ان کی مدد کی تھی ۔
انہوں نے لوڈ شیڈنگ پر بھی حکومت پر تنقید کی اور کہا کہ گزشتہ چار سال میں کوئی ایک منصوبہ بھی اس بحران سے نمٹنے کیلئے نہیں بنایا گیا ، نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہم سیاست کو عبادت سمجھتے ہیں ۔ ہم اقتدار میں آ کر عوام کے مسائل حل کریں گے ۔
ادھرتمام تر حکومتی اقدامات کے باوجود صوبائی دارلحکومت میں امن و امان کی صورتحال مخدوش ہے اور جمعرات کو تازہ واقعات میں رینجر اہلکار سمیت مزید پانچ افراد لقمہ اجل بن گئے ۔ کراچی میں امن و امان کی خراب صورتحال کا اس بات سے بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صرف مئی کے مہینے میں ایک سو چھ افراد فائرنگ اور پرتشدد واقعات میں زندگی کی بازی ہار چکے ہیں ۔
صدر آصف علی زرداری کی ہدایت پر وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک اور وزیراعلیٰ سندھ کی مشترکہ صدارت میں اجلاس ہوا جس میں چیف سیکریٹری سندھ ، ڈی جی رینجرز، آئی جی پولیس سندھ ، ایڈیشنل آئی جی نے بھی شرکت کی ۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ شہر کی حدود کا نئے سرے سے تعین کیا جائے گا ۔اس موقع پر کھارادر ، اورنگی ، کورنگی، پٹیل پاڑہ، لیاری ، ملیر اور سائٹ کے علاقے حساس قراردے دیئے گئے اور فیصلہ کیا گیا کہ مذکورہ علاقوں میں پولیس اور رینجرز کی جانب سے دن رات پیٹرولنگ اور اسنیپ چیکنگ کی جائے گی ۔

XS
SM
MD
LG