رسائی کے لنکس

logo-print

ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں کمی


فائل

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی موجود قدر کی وجہ سے برآمدات کو بڑھانا ایک چیلنج ہو گا۔

پاکستانی روپے کی قدر میں جمعے کو اچانک غیر معمولی کمی واقع ہوئی ہے اور ڈالر کے انٹر بینک ریٹ میں چار روپے 50 پیسے تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

جمعے کی صبح انٹر بینک ریٹ میں ڈالر کی قیمت ایک روپے کے مقابلے میں 109 روپے تک پہچ گئی جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 108.90 روپے تک بڑھ گئی۔

تاہم روپے کی قدر میں یہ کمی عارضی ثابت ہوئی اور جمعے کی دوپہر انٹر بینک لین دین میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر دوبارہ کم ہو کر 106.5 روپے ہو گئی۔

اگرچہ یہ واضح نہیں کہ روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں اچانک عارضی اضافے کی کیا وجوہات ہیں تاہم اسلام آباد میں غیر ملکی کرنسی کے لین دین سے وابستہ ایک نجی کمپنی کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ روپے کی قدر میں ہونے والی اچانک کمی ایک غیر یقینی صورتِ حال کی مظہر ہے۔

واضح رہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ 'آئی ایم ایف' کا ایک وفد پاکستان کی اقتصادی صورتِ حال اور پاکستان کے آئی ایم ایف سے حاصل کردہ چھ ارب ڈالر سے زائد قرضے کی واپسی کے لیے ملک کی اقتصادی صلاحیت کا جائزہ لینے کے لیے اسلام آباد کا دورہ کر رہا ہے۔

مقامی میڈیا میں ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ پاکستان کو غیر ملکی قرضوں بشمول پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے منصوبوں سے متعلق قرضوں اور منافع کے ادائیگی کے لیے اپنے غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے کے لیے اپنی برآمدات میں اضافہ کرنا ہو گا۔

تاہم بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی موجود قدر کی وجہ سے برآمدات کو بڑھانا ایک چیلنج ہو گا۔

کرنسی کے لین دین سے وابستہ ایک نجی کمپنی کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ جمعے کو ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اچانک کمی میڈیا میں آنے والی ان اطلاعات کی وجہ سے ہے کہ شاید پاکستان کو اپنی برآمدات میں اضافے کے لیے روپے کی قدر میں کمی کرنا پڑے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ جمعے کو روپے میں ہونے والی قدر کی کمی اس سطح پر برقرار رہے گی یا نہیں یہ آئندہ چند روز میں واضح ہوگا۔

دوسری طرف اسٹیٹ بنک کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر کا تعین مارکیٹ کر رہی ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ صورتِ حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ رواں سال جولائی میں روپے کی قدر میں غیر معمولی کمی ہوئی تھی اور ایک دن میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر لگ بھگ تین فیصد کم ہونے کے بعد ایک ڈالر کی قیمت 108.10 روپے ہو گئی تھی۔

اس وقت کے وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے روپے کی قدر میں کمی کو مصنوعی قرار دیتے ہوئے اس کی وجہ صحیح معلومات کے فقدان کو قرار دیتے ہوئے اس کا ذمہ دار بعض افراد کو قرار دیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG