رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستانی روپے کی قدر میں ریکارڈ کمی، مزید گراوٹ کا خدشہ


فائل فوٹو

پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان بیل آؤٹ پیکج پر اتفاق کے بعد پاکستانی روپے کی قدر تیزی سے کم ہو رہی ہے اور جمعرات کو کاروبار کے دوران انٹر بینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر 148 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

انٹر بینک مارکیٹ میں اب ڈالر 147 روپے میں فروخت ہو رہا ہے جب کہ گزشتہ روز اس کی قیمت 141 روپے 50 پیسے تھی۔

انٹر بینک یعنی بینکوں کے مابین ڈالر کی خرید و فروخت کی مارکیٹ میں روپے کی قدر کم ہونے کے بعد اوپن مارکیٹ میں بھی روپے کی قدر میں کمی ہوئی ہے۔

اوپن مارکیٹ میں ڈالر جو گزشتہ روز 144 روپے میں فروخت ہو رہا تھا اب بڑھ کر 147 روپے پر آ گیا ہے۔

بدھ کو اوپن مارکیٹ میں ٹریڈنگ کے دوران ڈالر کی قیمت 146 روپے سے تجاوز کر گئی تھی لیکن مارکیٹ بند ہونے تک ڈالر دوبارہ 144 روپے پر آ گیا تھا۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت اسٹیٹ بینک روپے کو مصنوعی طور پر مستحکم نہیں کرے گا بلکہ مارکیٹ کی طلب و رسد ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کا تعین کرے گی۔

رواں ہفتے معاہدے کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد سے مارکیٹ میں یہ تاثر عام تھا کہ روپے کی قدر مزید کم ہو گی۔

فاریکس ایکسچنج کمپنیوں کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے معاہدے کے بعد انٹر بینک میں ریٹ میں اضافہ اور اسی بنیاد پر اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر بڑھی۔

پاکستان فاریکس ایکسچنج کمپنی ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل ظفر پراچہ نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اطلاعات کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف کےساتھ مذاکرات میں روپے کی قدر کو 15 سے 20 فیصد تک کم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان چند روز قبل ہی طے پانے والے بیل آؤٹ پیکج کے تحت عالمی ادارہ پاکستان کو 39 ماہ کے دوران چھ ارب ڈالر مختلف اقساط میں دے گا۔ معاہدے کے تحت پاکستان اس قرض کے بدلے میں سخت معاشی اصلاحات نافذ کرے گا۔

ظفر پراچہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے بعد روپے کی قدر کم ہو رہی ہے اور اس میں مزید کمی کا امکان ہے۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے روپے کی قدر میں تیزی سے ہونے والی کمی کو کنٹرول کرنے کے لیے حال ہی میں مشیرِ خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کی صدرات میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر بھی اس کمیٹی کے رکن ہیں۔

کمیٹی نے فاریکس ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی ہے جنہوں نے کمیٹی کو مارکیٹ میں سٹے بازی اور مصنوعی طلب کی حوصلہ شکنی کی یقین دہانی کرائی ہے۔

روپے کی قدر میں کمی سے کیا نقصان ہو گا؟

ڈالر اور دیگر غیر ملکی کرنسیوں کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی سے پاکستان میں فروخت ہونی والی درآمدی اشیا مہنگی ہو جاتی ہیں۔

ڈالر کی قدر بڑھنے سے سب سے زیادہ اثر پیٹرولیم مصنوعات پر پڑتا ہے۔

پاکستان اپنی ضرورت کی زیادہ تر پیٹرولیم مصنوعات دوسرے ممالک سے درآمد کرتا ہے اور روپے کی قدر کم ہونے سے پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے سے نقل و حمل کے اخراجات بڑھتے ہیں اور ملک میں تیار ہونے والی عام استعمال کی اشیا بھی مہنگی ہو جاتی ہیں۔

ڈالر کی قدر بڑھنے سے پاکستان پر واجب الادا غیر ملکی قرضوں کا حجم بھی بڑھ جاتا ہے۔

روپے کی قدر کیسے مستحکم ہو؟

اقتصادی ماہرین کے مطابق پاکستانی روپے کی قدر کا دار و مدار ملک کی معاشی صورتِ حال پر ہے۔

روپے کی قدر مستحکم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر زیادہ ہوں۔ اگر پاکستان کی برآمدات زیادہ ہوں اور تجارتی خسارہ کم ہو تو زرمبادلہ کے ذخائر بڑھنے سے روپے کی قدر مستحکم رہ سکتی ہے۔

پاکستان کی برآمدات کے مقابلے میں درآمدت زیادہ ہیں اور تجارتی خسارے کے سبب روپے کی قدر میں بھی کمی ہوتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG