رسائی کے لنکس

حملوں سے متعلق بھارتی نجومی کی ٹوئٹس کی تحقیقات کا مطالبہ


یکم دسمبر کو پشاور میں زرعی تربیت مرکز پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا
یکم دسمبر کو پشاور میں زرعی تربیت مرکز پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا

نجومی نے ایک اور ٹوئٹ میں یہ پیش گوئی بھی کی کہ فروری کے وسط تک پاکستان کو مزید پانچ دہشت گرد حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

پاکستان کے ایوانِ بالا کی ایک کمیٹی نے ایک بھارتی نجومی کی طرف سے دہشت گرد حملوں کی پیش گوئیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی تحقیقات کا کہا ہے۔

انیرودھ کمار مشرا نے نومبر میں پاکستان میں ایک دہشت گرد حملے کی پیش گوئی کی تھی جس کے چند روز بعد یکم دسمبر کو پشاور میں زرعی تربیتی مرکز پر عسکریت پسندوں کا ایک حملہ ہوا تھا جس میں 12 افراد ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

اس حملے کے بعد مشرا نے دوبارہ ٹوئٹ کیا تھا کہ گو کہ دن غلط ہوگیا لیکن ان کی پیش گوئی درست ثابت ہوئی۔

اسی نجومی نے ایک اور ٹوئٹ میں یہ پیش گوئی بھی کی کہ فروری کے وسط تک پاکستان کو مزید پانچ دہشت گرد حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امورِ داخلہ کے سربراہ سینیٹر رحمٰن ملک نے اجلاس میں ان پیش گوئیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کو اس کی چھان بین کرنے کا کہا۔

اجلاس میں شریک کمیٹی کے ایک رکن سینیٹر طاہر مشہدی نے منگل کو وائس آف امریکہ کو تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ٹوئٹس سے مبینہ طور پر پشاور حملے میں بھارتی خفیہ ایجنسی "را" کے ملوث ہونے کا اظہار ہوتا ہے۔

"اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ ایک دن جلدی تھا یا دیر سے ہوا تو پھر منصوبہ بندی تو بھارت کر رہا ہے اور یہ سارے حملے اور ان کی منصوبہ بندی پاکستان سے تو نہیں ہو رہی۔ یہ را اور بھارت سے منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔ اس کی تحقیق کریں یہ کہاں سے ٹوئٹ آئی تھی۔ ایڈریس کیا تھا اور یہ کتنی قابل اعتبار ہے۔ اگر پانچ مزید حملوں کا کہا گیا ہے تو اس کا بھی پتا چلایا جائے کہ ان کے بارے میں اگر کوئی معلومات ہے۔"

پاکستان اپنے ہاں ہونے والی تخریبی کارروائیوں کا الزام بھارت پر عائد کرتا آیا ہے لیکن نئی دہلی ان دعوؤں کو مسترد کرتا ہے۔

سینیٹر طاہر مشہری کا کہنا تھا کہ دنیا میں سائبر جنگ روایتی جنگ سے زیادہ اہمیت اختیار کر چکی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ انٹرنیٹ کو استعمال میں لاتے ہوئے کئی حملوں کی منصوبہ بندی دیکھنے میں آ چکی ہے۔ لہذا اس تناظر میں بھی ان ٹوئٹس کی تحقیقات ضروری ہو جاتی ہیں۔

"ہم لوگ ابھی اس میں بہت پیچھے ہیں۔ ابھی اس پر پاکستان نے اتنا زیادہ بجٹ نہیں رکھا ہے جتنا ہونا چاہیے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سائبر ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے دہشت گردی کی جا سکتی ہے۔ تو میرا خیال ہے کہ یہ (ٹوئٹس) قابلِ تفتیش ہیں۔ بھارت سائبر ٹیکنالوجی کی ترقی میں ہم سے بہت آگے ہے۔ حکام کو اس کی تحقیقات ضروری کرنی چاہیے۔"

مشرا کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے مختلف ملکوں سے متعلق بھی پیش گوئیاں موجود ہیں جن میں سے کئی واقعات رونما بھی ہوئے اور یہ نجومی ان واقعات کے بعد اپنی پیش گوئیوں کے سچ ثابت ہونے کا تذکرہ کرتے بھی نظر آتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG