رسائی کے لنکس

logo-print

اسامہ نے خودکشی کی، سوشل میڈیا نے قتل بنا دیا: وزارتِ خارجہ


چین میں خودکشی کرنے والے طالب علم اسامہ خان کی نماز جنازہ بہاولپور میں ادا کی گئی۔ 20 نومبر 2018

اسامہ خان چین کے صوبہ لیوننگ کے شہر شنیانگ کی جیان زو یونیورسٹی کا طالب علم تھا۔ بتایا گیا ہے کہ نامعلوم  وجوہات کی بنا پر اس نے 12 نومبر کو خودکشی کر لی تھی۔

سرکاری اطلاعات کے مطابق چین میں خودکشی کرنے والے پاکستانی نوجوان اسامہ احمد خان کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد ان کے آبائی علاقے بہاولپور میں تدفین کردی گئی ہے۔

اسامہ کی چین میں ہلاکت پر فیک نیوز اور سوشل میڈیا کے ذریعے جعلی خبریں پھیلانے کا معاملہ ایک بار پھر سامنے آیا ہے۔

اسامہ کے متعلق سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسے قتل کیا گیا تھا۔ انسانی حقوق کی وفاقی وزیر شیریں مزاری نے بھی ٹوئیٹ کیا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر معاملہ سامنے آنے کے بعد چین میں پاکستانی سفارت خانے سے رابطہ کیا تھا۔

اسامہ احمد خان کی ہلاکت پر پاکستان کے سوشل میڈیا میں ایک ویڈیو کے ذریعے کہرام مچا رہا جس میں دو افراد ایک شخص کو سٹرک پر لٹا کر مار رہے تھے۔ ویڈیو کے متعلق یہ دعوٰی کیا گیا تھا کہ مارپیٹ کا نشانہ بننے والا شخص پاکستانی نوجوان اسامہ احمد خان تھا۔ تاہم پاکستانی دفتر خارجہ اور چین کے اسلام آباد میں سفارت خانے نے ان اطلاعات کی تردید کر دی ہے۔

اسامہ خان چین کے صوبہ لیوننگ کے شہر شنیانگ کی جیان زو یونیورسٹی کا طالب علم تھا۔ بتایا گیا ہے کہ نامعلوم وجوہات کی بنا پر اس نے 12 نومبر کو خودکشی کر لی تھی۔

اسامہ کی ہلاکت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں دو افراد ایک شخص کو زمین پر لٹا کر مارتے ہوئے نظر آ رہے تھے۔ قریب ہی موجود ایک لڑکی انہیں چینی زبان میں ایسا کرنے سے روک رہی تھی۔ اس ویڈیو کے حوالے سے کہا گیا کہ ہلاک ہونے والا شخص اسامہ احمد خان ہے۔ تاہم پاکستانی دفتر خارجہ نے ایک تردیدی بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ شخص اسامہ نہیں ہے، بلکہ سفارت خانے کی رپورٹس کے مطابق پاکستانی طالب علم نے خودکشی کی ہے۔

اسی سلسلے میں پاکستان میں چین کے نائب سفیر لی جیان ژاؤ نے بھی ایک ٹوئیٹ کی اور بتایا کہ جس واقعہ پر سوشل میڈیا خبریں پھیلائی جارہی ہیں درحقیقت وہ بیجنگ نہیں بلکہ گوانگزو ہے جہاں ایک شخص نے اپنی گرل فرینڈ کے دو بھائیوں پر چاقو سے حملہ کیا جس کے ردعمل میں دونوں بھائیوں نے مذکورہ شخص کو قابو کیا۔ اس شخص کا اسامہ سے کوئی تعلق نہیں۔

اسامہ احمد خان کی میت پاکستان پہنچنے پر اس کے گھر والوں نے ذرائع ابلاغ سے بات کرنے سے اجتباب کیا، تاہم اسامہ کے بھائی تیمور بلوچ نےمیڈٰیا سے مختصر بات کرتے ہوئے کہا کہ ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے کہ یہ قتل ہے یا خود کشی۔ معاملات زیر تفتیش ہیں۔ لہٰذا ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا۔ وہ اس معاملے پر چینی سفارت خانے کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

تیمور بلوچ نے یہ تصدیق کی کہ لاش سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسامہ نے خودکشی نہیں کی تاہم ان کا کہنا تھا کہ جب انہیں اس بارے میں تفصیلات ملیں گی تب ہی وہ اس معاملے پر مزید بات کریں گے۔

اسامہ کے معاملے پر ایک بار پھر فیک نیوز کا مسئلہ سامنے آ گیا ہے جس میں جھوٹی خبریں پھیلا کر نفرت کو ابھارا جا سکتا ہے۔ اس معاملہ میں بھی پاکستانی دفتر خارجہ کی تردید کے باوجود لوگ فوٹیج میں تشدد کا نشانہ بننے والے شخص کو اسامہ ہی سمجھ رہے ہیں۔ اس سے قبل وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے فیک نیوز کی روک تھام کے لیے سوشل میڈیا پر کنٹرول کی بات کی تھی۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی بعض جھوٹی خبروں کی وجہ سے لوگوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ چکی ہیں لہذا اس صورت حال کے تدارک کے لیے ضروری ہے کہ سوشل میڈیا پر کنٹرول کیا جائے

دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں لوگوں سے درخواست کی تھی کہ وہ اس طرح کے واقعات میں احتیاط برتیں۔ سنسنی خیزی سے اجتناب کریں اور جعلی خبریں نہ پھیلائیں۔ جھوٹی خبروں کے اس طوفان میں کسی بھی وقت اشتعال پھیلا کر نقصان پہنچایا جاسکتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG