رسائی کے لنکس

logo-print

کالعدم لشکرِ اسلام کے کمانڈر منگل باغ افغانستان میں بم حملے میں ہلاک


منگل باغ، فائل فوٹو

پشاور سے ملحقہ قبائلی ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ سے تعلق رکھنے والے ایک شدت پسند کمانڈر منگل باغ افغانستان میں جمعرات کو ایک دیسی ساختہ ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

اس بم حملے میں منگل باغ کی ایک دس سالہ بیٹی بھی ماری گئی ہے۔

سرحد پار افغانستان سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق پاکستان سے ملحقہ سرحدی صوبے ننگرہار کے ضلع اچین کے علاقے بانڈر کے گاؤں کس میں منگل باغ جمعرات کی صبح جب گھر سے نکلے تو راستے میں نامعلوم افراد کی جانب سے بچھائے گئے دیسی ساختہ ریموٹ کنٹرول بم کی زد میں آ گئے۔

بم دھماکے کے نتیجے میں منگل باغ بیٹی سمیت ہلاک ہو گئے۔

افغانستان کے صوبہ کنڑ سے تعلق رکھنے والے صحافی سید رحمان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ طالبان عسکریت پسندوں کے ایک کمانڈر مولوی حیدر نے ٹیلیفون پر منگل باغ کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔ جب کہ باڑہ کے صحافی حسین آفریدی کے مطابق منگل باغ کے بعض رشتے داروں نے بھی بم حملے میں ان کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان کے سابق ترجمان قاری احسان اللہ احسان نے بھی ایک ٹوئٹ پیغام میں منگل باغ کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

چند روز قبل اسی علاقے میں نامعلوم افراد نے منگل باغ پر حملہ کیا تھا جس میں وہ تو محفوظ رہے تھے مگر ان کا ایک محافظ ہلاک ہو گیا تھا۔ ہلاک ہونے والے محافظ کی میت کو بعد میں ضلع خیبر کی وادیٔ تیراہ منتقل کیا گیا تھا۔

منگل باغ کون تھے؟

آفریدی قبیلے کی ذیلی شاخ سپاہ سے تعلق رکھنے والے منگل باغ 2004 اور 2005 سے قبل ایک عام شخص تھا۔ مگر جب 9/11 کے واقعے کے بعد پاکستان میں بالخصوص خیبر پختونخوا اور ملحقہ قبائلی علاقوں میں شدت پسند عناصر اور گروہ بننا شروع ہو گئے تو باڑہ کے علاقے میں معاشرتی برائیوں کے خاتمے کے نعرے کے ساتھ منگل باغ نے لشکرِ اسلام کے نام سے ایک تنظیم قائم کی۔

سابقہ قبائلی علاقوں میں پاکستانی فوج کے آپریشن سے قبل طالبان اور عسکریت پسندوں کے مختلف گروہ علاقے میں بہت سرگرم رہے ہیں۔
سابقہ قبائلی علاقوں میں پاکستانی فوج کے آپریشن سے قبل طالبان اور عسکریت پسندوں کے مختلف گروہ علاقے میں بہت سرگرم رہے ہیں۔

معاشرتی برائیوں کے خلاف سرگرم اس تنظیم کا نشانہ ایک بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والی مذہبی شخصیت پیر سیف الرحمٰن تھے جن کا تعلق افغانستان سے تھا۔ مگر 60 کی دہائی میں وہ پشاور منتقل ہو گئے تھے اور انہوں نے باڑہ میں ایک خانقاہ بنا لی تھی۔

اس دوران لشکرِ اسلام اور پیر سیف الرحمٰن کے وفاداروں میں ہلاکت خیز جھڑپیں بھی ہوئیں تھیں جس کے نتیجے میں دونوں جانب سے درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔ بعد میں پیر سیف الرحمٰن منگل باغ اور حکومتی اداروں کے دباؤ میں آ کر کراچی منتقل ہو گئے تھے۔ سیف الرحمٰن لگ بھگ دو سال قبل دوبارہ ایک مختصر عرصے کے لیے باڑہ آئے تھے لیکن وہ مستقل طور پر کراچی میں ہی مقیم ہیں۔

منگل باغ کی لشکرِ اسلام نے نہ صرف ضلع خیبر بلکہ پشاور میں بھی خوف کا بازار گرم کیے رکھا۔ سال 2006 سے لے کر 2013 تک ضلع خیبر، پشاور اور خیبر پختونخوا کے کئی علاقوں میں دہشت گردی کے زیادہ تر واقعات کی ذمے داری ان کی تنظیم نے قبول کی۔

اس دوران خیبر پختونخوا کی سابق حکمران جماعت عوامی نیشنل پارٹی اور خیبر پختونخوا پولیس کو لشکرِ اسلام کے عسکریت پسندوں نے بہت زیادہ مالی اور جانی نقصان پہنچایا تھا۔

منگل باغ اپنے قریبی ساتھیوں، رشتے داروں اور وفادار جنگجوؤں کے ہمراہ 2011 کے آخر میں پہلے ضلع خیبر کی وادیٔ تیراہ اور لگ بھگ ایک سال بعد سرحد پار افغانستان منتقل ہو گئے تھے۔ لیکن اس دوران ان کے جنگجوؤں نے دہشت گردی اور تشدد کی کارروائیاں جاری رکھیں۔

افغانستان میں منگل باغ نے داعش، افغان طالبان اور تحریکِ طالبان پاکستان سمیت دیگر ملکی و غیر ملکی اور افغان شدت پسندوں کے ساتھ اچھے روابط قائم رکھے۔

ننگرہار کے علاقے اچین، جہاں منگل باغ اپنے ساتھیوں اور رشتے داروں سمیت رہائش پذیر تھے، وہاں پر 2015 سے 2019 کے آخر تک نہ صرف داعش کے جنگجوؤں کا کنٹرول تھا بلکہ اس علاقے میں داعش اور افغان طالبان کے درمیان ہلاکت خیز تصادم بھی ہوتے رہتے تھے۔

مگر منگل باغ اور ان کے جنگجو ان جھڑپوں میں غیر جانب دار رہے تھے۔ داعش کے مقامی افغان قبائل کے خلاف کارروائیوں میں بھی منگل باغ کی لشکرِ اسلام کے جنگجو خاموش تماشائی کے طور پر مشہور تھے۔

منگل باغ سے قبل پاکستان سے افغانستان فرار ہونے والے کئی عسکریت پسند جنگجو مختلف واقعات اور کارروائیوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان کے سابق سربراہ ملا فضل اللہ اور داعش میں چلے جانے والے شاہد اللہ شاہد نمایاں ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG