رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں 36 فی صد کمی، مذہبی انتہا پسندی بدستور بڑا خطرہ: رپورٹ


فائل فوٹو

پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز (پی آئی پی ایس) نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ سال 2020 کے دوران ملک میں دہشت گردی کے کُل 146 واقعات میں 220 افراد ہلاک جب کہ 547 زخمی ہوئے۔ دہشت گردی کے ان واقعات میں ملک کے مختلف علاقوں میں ہونے والے تین خود کش حملے بھی شامل ہیں۔

گزشتہ برس دہشت گردی کے 67 واقعات صرف سابقہ قبائلی علاقہ جات میں رپورٹ ہوئے. یہ علاقے اب ملک کے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا کا حصہ بن چکے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق خیبر پختونخوا میں گزشتہ برس 79 حملوں میں 100 افراد ہلاک جب کہ 206 زخمی ہوئے۔

دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ بلوچستان رہا جہاں دہشت گردی کے 42 حملوں میں 95 افراد ہلاک اور 216 زخمی ہوئے۔ اسی طرح سندھ میں 18 حملوں میں 20 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں اور 66 افراد زخمی ہوئے جب کہ پنجاب میں ایسے سات واقعات میں پانچ افراد ہلاک اور 59 زخمی ہوئے۔

پی آئی پی ایس کی سالانہ رپورٹ برائے 2019 کے مطابق پاکستان میں مجموعی طور پر دہشت گردی کے 229 حملوں میں 357 افراد ہلاک اور 729 زخمی ہوئے تھے۔ سال 2019 کے دوران بھی دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ خیبر پختونخوا ہی تھا۔

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان میں 2019 کے مقابلے میں 2020 میں دہشت گردی کے واقعات میں 36 فی صد کمی واقع ہوئی ہے جب کہ ان واقعات میں اموات کی تعداد میں بھی 38 فی صد کے لگ بھگ کمی آئی ہے۔

پی آئی پی ایس کی جانب سے کی جانے والی تحقیق کو 'پاکستان سیکیورٹی رپورٹ 2020' کا نام دیا گیا ہے جس کے مطابق 2020 میں دہشت گردی کے واقعات میں سے 95 میں مذہبی دہشت گردی میں ملوث گروپس کا ہاتھ تھا۔ ان گروپوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان، حزب الاحرار، جماعت الاحرار، لشکر اسلام کے ساتھ طالبان اور داعش سے جڑے گروپس شامل ہیں۔

اسی طرح دہشت گردی کے 44 ایسے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سندھ اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے مسلح گروپ ملوث تھے۔ اسی طرح دہشت گردی کے سات حملے فرقہ واریت سے متعلق تھے۔

ان حملوں میں مجموعی طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی بھاری جانی نقصان کا سامنا رہا۔

رپورٹ کے مطابق دہشت گردی کے حملوں میں 97 اہلکار ہلاک اور 113 زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں 42 آرمی افسران، 25 فرنٹیئر کانسٹیبلری، 25 پولیس، تین لیویز اور دو رینجرز کے اہلکار شامل ہیں۔

ان اعداد و شمار کا اگر سال 2019 سے موازنہ کیا جائے تو ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں امن و امان کی صورتِ حال میں تیزی سے بہتری آرہی ہے لیکن رپورٹ کے مطابق سال 2020 کے دوران طالبان اور دیگر مسلح گروہوں نے ایک بار پھر منظم ہونے کی کوششیں کی۔

رپورٹ کے مطابق عالمی دہشت گرد تنظیم داعش نے بھی پاکستان میں اپنے قدم مضبوط کیے اور وہیں سندھ اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے علیحدگی پسندوں کی کارروائیوں میں بھی تیزی سے اضافہ دیکھا گیا۔

بلوچستان میں سرگرم ایسے گروپس کی جانب سے صرف ایک سال میں 32 حملے کیے گئے جن میں 50 شہری ہلاک اور 87 زخمی ہوئے جب کہ سال 2017 سے 2019 کے دوران تین برسوں میں مجموعی طور پر صرف 37 حملے رپورٹ ہوئے تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں چھ بلوچ علیحدگی پسند گروپس فعال ہیں جن میں بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ لبریشن فرنٹ دو بڑے گروہ ہیں جنہوں نے مجموعی طور پر 32 میں سے 24 حملے کیے۔

اسی طرح سندھ میں بھی قوم پرست مسلح گروہوں کی جانب سے 10 حملے کیے گئے جن میں ایک درجن افراد ہلاک اور 66 زخمی ہوئے۔ ایسے علیحدگی پسند گروہوں میں سے سندھو دیش ریولشنری آرمی نے آٹھ حملے کیے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ روایتی طور پر سندھی قوم پرست گروہوں کی جانب سے کم شدت کے حملے کیے جاتے رہے ہیں لیکن سال 2020 کے دوران ایک اہم چیز یہ دیکھنے میں آئی ہے کہ بعض سندھی علیحدگی پسند اور بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کے درمیان اتحاد بھی قائم ہوا ہے۔

'سال 2020 میں مذہبی انتہا پسندی نے پھر سے سر اٹھایا'

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات کی عددی کمی کے باوجود سال 2020 میں ملک کو مذہبی انتہا پسندی سے شدید چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔

رپورٹ کے مندرجات کے مطابق اس شدت پسندی کا اندازہ تحریکِ لبیک پاکستان کے سابق سربراہ مولانا خادم رضوی کی وفات کے موقع پر ہونے والے بڑے عوامی اجتماع، شیعہ مخالف مظاہروں، اقلیتی برادری اور ان کی عبادت گاہوں کے خلاف بڑھتے ہوئے حملوں، نفرت پر مبنی بیانیے، آن لائن اور آف لائن نفرت آمیز تقاریر اور کالعدم تنظیموں کی جاری سرگرمیوں سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

رپورٹ تیار کرنے والے ادارے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پیس اسٹڈیز (پی آئی پی ایس) کے پراجیکٹ مینیجر احمد علی کے مطابق مذہبی انتہا پسندی ملک کے لیے بڑے خطرے کے طور پر سامنے آئی ہے۔

اُن کے بقول، "پاکستان میں کئی سال بعد ایک بار پھر مذہبی انتہا پسند گروہ فعال نظر آرہے ہیں۔ 2015 سے 2019 تک فرقہ واریت یا فرقہ وارانہ سرگرمیاں کافی حد تک سُست پڑ چکی تھیں لیکن اس سال ہم نے دیکھا کہ اسلام آباد اور کراچی میں شیعہ مخالف بڑی ریلیز کا انعقاد کیا گیا۔"

احمد علی کے خیال میں مذہبی انتہا پسندی اس وقت ایک سنجیدہ مسئلہ ہے جس کا مظاہرہ اسلام آباد میں مندر بنانے پر کی جانے والی مخالفت سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔ تاہم اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے اس پر لگائے گئے اعتراضات ہٹانے اور کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے اس کے این او سی جاری کرنے کے ایک ہفتے بعد ہی خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں ایک مندر کو توڑ پھوڑ کے بعد جلانے کا واقعہ سامنے آیا۔

انہوں نے کہا کہ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مذہبی انتہا پسندی کا مسئلہ بڑھتا جارہا ہے اور پھر اسی سے بالآخر دہشت گردی جنم لیتی ہے۔

'بیرونی قوتیں پاکستانی سرزمین کو میدان جنگ بنائے ہوئے ہیں'

دوسری جانب دفاعی تجزیہ کار اور سیاسی مبصر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ طلعت مسعود کا کہنا ہے کہ انتہا پسندی کی موجودہ لہر کافی خطرناک ہے اور یہ ملک کے لیے پہلے ہی نقصان دہ ثابت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک بار پھر پاکستان میں غیر ملکی قوتوں کی جانب سے مداخلت کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور جس قسم کے واقعات ہو رہے ہیں خصوصاً مچھ میں کان کنوں کے قتل کے حالیہ واقعے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بیرونی قوتیں ایک بار پھر پاکستان میں متحرک ہیں۔

'چھوٹے صوبوں کا احساس محرومی دور کرنا ضروری ہے'

بلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیموں کی جانب سے کارروائیاں بڑھنے پر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ طلعت مسعود کا کہنا تھا کہ بلوچ علیحدگی پسند یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے حقوق پامال کیے گئے ہیں اور بلوچستان کو جان بوجھ کر ترقی نہیں دی گئی۔

طلعت مسعود کے بقول بلوچ علیحدگی پسندوں کے خیال میں پاکستان میں جو قوتیں برسر اقتدار رہیں چاہے وہ فوجی ہوں یا سویلین، انہوں نے بلوچستان کو محروم رکھا اور وہ دیگر صوبوں کے مقابلے میں بلوچستان سے امتیازی سلوک کرتے رہے، اس لیے ان کی سوچ میں محرومی واضح ہے۔

طلعت مسعود نے بتایا کہ سندھ میں بھی تقریباً انہی وجوہات کی بنا پر علیحدگی کی باتیں کی جاتی ہیں۔ سندھ میں بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ اُن کے صوبے کے وسائل پر پنجاب مسلط ہو رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ سندھ کے مختلف علاقوں میں ترقی کا نہ ہونا ہے اور اس چیز کا فائدہ علیحدگی پسند لوگ اٹھاتے ہیں۔

دفاعی اور قومی سلامتی کے ماہرین کہتے ہیں انتہا پسندی اور فرقہ واریت پر قابو پانے کے لیے قومی سطح پر ترتیب دیے گئے 'نیشنل ایکشن پلان' پر عمل درآمد کی ضرورت ہے۔

پی آئی پی ایس کے پراجیکٹ مینیجر احمد علی کا کہنا ہے کہ اگر 2015 میں منظور کیے گئے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد ہوتا تو بہت سی چیزوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

اُن کے بقول نیشنل ایکشن پلان کے تحت جب آپریشنز کیے گئے تو اس کے بعد مسلح گروہوں اور فرقہ وارانہ تنظیموں کی سرگرمیاں سُست پڑ گئی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ 2016 سے 2019 کے دوران بڑی حد تک استحکام دیکھنے میں آیا۔

پی آئی پی ایس کی اس رپورٹ میں سرحد پار سے ہونے والے 125 حملوں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں سے 114 بھارت جب کہ 11 افغانستان کی جانب سے کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق سرحد پار سے ہونے والے ان حملوں میں 62 افراد اپنی جانوں سے گئے جن میں 20 فوجی بھی شامل ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG