رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستانی نژاد امریکی شیف فاطمہ علی انتقال کرگئیں


فاطمہ علی (فائل فوٹو)

نیا سال کیا شروع ہوا بے رحم موت نے پاکستانی اور بھارتی ستاروں کا گویا گھر دیکھ لیا ہے۔ پہلے قادر خان، پھر گلاب چانڈیو، روحی بانو اور اب فاطمہ علی کو موت زندگی سے چھین کر لے گئی۔

فاطمہ پاکستانی نژاد امریکی شیف تھیں جنہیں لوگ امریکی ٹی وی شو ’ٹاپ شیف‘ میں دیکھتے رہے ہیں۔ وہ ایک طویل عرصے سے کینسر کے مرض سے جنگ لڑ رہی تھیں لیکن بالآخر جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب کینسر جیت گیا اور فاطمہ ہار گئیں۔

پاکستانی خواہ وہ امریکہ میں مقیم ہوں یا پاکستان میں یا دنیا کے کسی اور خطے میں، ایک ہی دن میں اپنی اپنی فیلڈ میں مہارت رکھنے والی دو شخصیات کی موت پر افسردہ ہیں۔ جمعے کی دوپہر ترکی سے روحی بانو کے انتقال کی خبر آئی تو رات گئے فاطمہ علی کی رحلت کی اطلاع نے سب کو غم زدہ کردیا۔

شیف بروس کیلمین ان کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے جنہوں نے سوشل میڈیا پر فاطمہ کے انتقال کی تصدیق کی ہے۔ بروس فاطمہ کے ساتھ ٹی وی سیریز میں بھی ان کے ہمراہ کام کرچکے ہیں۔

فاطمہ کو ہڈیوں اور ٹشوز کا کینسر لاحق تھا۔ یہ موذی مرض کم لوگوں کو ہوتا ہے۔ وہ صرف 29 سال کی تھیں لیکن بیماری نے انہیں ظاہری اور جسمانی طور پر اپنی عمر سے کہیں بڑا کردیا تھا۔

ان کی بیماری کے دوران منظرِ عام پر آنے والی تصویریں دیکھ کر واضح ہوتا ہے کہ وہ اپنی موت سے قبل دورانِ علاج بہت لاغر ہوگئی تھیں اور سر کے بال جھڑ ہوگئے تھے۔

فاطمہ کی بیماری کی تشخیص کئی سال پہلے ہوئی تھی لیکن 2016ء میں ان کی طبیعت نسبتاً سنبھل گئی تھی۔ اس سے اگلے سال انہوں نے آخری ٹی وی پروگرام 'ٹاپ شیف' کیا اور اس کے بعد اپنی فنی زندگی کو خیر باد کہہ دیا۔

فاطمہ نے 29 جنوری 2017ء کو انسٹاگرام پر اپنی ایک تصویر اپ لوڈ کرتے ہوئے اپنے چاہنے والوں اور خیر خواہوں سے صحت کی دعا کے لیے کہا تھا۔

فاطمہ کی موت پر ان کے چانے والے اور پرستار سوشل میڈیا پر اظہارِ افسوس کر رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG