رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستانی امریکیوں کو مردم شماری میں ضرور حصہ لینا چاہیے: ماہرین


فائل فوٹو

امریکہ میں ہر دس سال بعد ہونے والی مردم شماری کو کئی حوالوں سے اہم سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اس سال کرونا وائرس بحران نے صحتِ عامہ کی سہولیات کو تمام لوگوں کے لیے یقینی بنانے کے سلسلے میں 2020 کی مردم شماری میں شرکت کے آئینی فریضے کو مزید اہم بنا دیا ہے۔

صحتِ عامہ کی سہولیات کے علاوہ آبادی کے متعلق حاصل ہونے والے حقائق اور شماریات کانگریس سے کاؤنٹی اور شہر تک کی نمائندگی اور ترقیاتی بجٹ کے تعین کی بنیاد بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ ماہرین کے مطابق امریکہ میں بسنے والی مختلف کمیونٹیز کو سیاسی آواز بننے کے لیے مردم شماری میں ان کی شمولیت کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

ڈاکٹر زاہد بخاری گزشتہ 40 سال سے کمیونٹی سے متعلق کاموں میں سرگرم ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مردم شماری میں حصہ لینا تمام کمیونٹیز کے اپنے حق میں ہے، کیونکہ کمیونٹی کی حیثیت سے ہی سیاسی اثر و رسوخ کا حصول ممکن ہوتا ہے اور مقامی ترقی میں فعال کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔

مثال کے طور پر وہ کہتے ہیں کہ کوئی شہری اگر کسی غیر سرکاری تنظیم کے ذریعے فلاح و بہبود کا کام کرنا چاہے تو اسے مالی امداد علاقے میں آباد کمیونٹی کے تناسب سے ملے گی۔

جہاں تک پاکستانی کمیونٹی کا تعلق ہے تو پاکستانی نژاد ڈاکٹر بخاری جو کہ اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ کی سماجی انصاف کی کونسل کے سربراہ ہیں، کہتے ہیں کہ ماضی کے مقابلے میں ان میں مردم شماری کی اہمیت کے بارے میں زیادہ آگاہی پائی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خاص طور پر نائن الیون کے بعد مسلمانوں نے مردم شماری اور مقامی اور ریاستی سطح پر سیاست میں حصہ لینا شروع کر دیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ برسوں سے امریکہ کے قومی سیاسی دھارے میں مختلف کمیونٹیز کی شرکت ایک خوش آئند بات ہے۔

لیکن پھر بھی کچھ لوگ اپنے ساتھ رہائش پذیر لوگوں کی معلومات دینے سے احتراز کرتے ہیں، خاص طور پر ان افراد کے بارے میں جن کا امریکہ میں سکونت کے لیے اسٹیٹس ابھی واضح نہیں ہے، یا ان کا کیس امیگریشن کے کسی مرحلے میں ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے نیو جرسی میں مقیم ڈاکٹر محمد علی چودھری نے، جو کہ برنارڈ ٹاؤن کے میئر رہ چکے ہیں، کہا کہ پاکستانیوں کو مردم شماری کے فارم میں اپنے آپ کو پاکستانی لکھنا چاہیے نہ کہ ایشین امریکن۔

وہ مردم شماری کے فارم میں شامل ساتویں سوال کا حوالہ دے رہے تھے جو لوگوں کی نسلی وابستگی سے متعلق ہے۔ سوال کے جواب میں مختلف آپشنز ہیں جیسا کہ ایشین امریکن۔ بہت سے پاکستانی، پاکستان کا آپشن نہ ہونے کی وجہ سے اپنے آپ کو ایشین امریکن میں شامل کرتے ہیں۔

لیکن پاکستانی سیاسی کارکن کہتے ہیں کہ اگر پاکستانی امریکی اپنے آپ کو ایشین امریکن گنوانے کی بجائے other یعنی دیگر کا آپشن استعمال کریں تو اس میں وہ اپنے آپ کو بطور پاکستانی شامل کر سکتے ہیں۔

سابقہ میئر محمد علی چوہدری کہتے ہیں کہ ایسا کرنے سے پاکستانی کمیونٹی نہ صرف سیاسی طور پر مضبوط ہو گی بلکہ اس سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے کاروباری حلقے بھی مستفید ہوں گے۔

ماہرین کے مطابق امریکہ ایک کثیر القوم معاشرہ ہے اور اس میں بسنے والے لوگ دنیا کے مختلف ملکوں سے ایک بہتر مستقبل کی تلاش میں آتے ہیں۔ تارکینِ وطن بیک وقت امریکی بھی ہوتے ہیں اور اپنی شناخت بھی برقرار رکھتے ہیں۔

واشنگٹن ایریا میں عرصہ دراز سے متحرک پاکستانی امریکی ڈاکٹر ذوالفقار کاظمی کہتے ہیں کہ مردم شماری میں مختلف لوگوں کا اپنی شناخت برقرار رکھتے ہوئے شامل ہونا اصل میں امریکی معاشرے کے حسن کی عکاسی کرتا ہے۔

ڈاکٹر کاظمی جو کہ دی کامن گراؤنڈز تنظیم کے سربراہ ہیں، کہتے ہیں: "پاکستانیوں کو اپنے آپ کو پاکستانی ظاہر کرنا چاہیے، کیونکہ امریکہ ایک گلدستے کی مانند ہے، جہاں تمام پھول اپنے اپنے رنگوں کے ساتھ ایک بڑی اکائی کا حصہ ہیں۔"

امریکی مردم شماری کے محکمے یعنی سینس بیورو کے مطابق اب تک تقریباً 52 فی صد لوگ مردم شماری میں حصہ لے چکے ہیں۔ اور کووڈ 19 کی وجہ سے اس کے بھیجے ہوئے فارم کی آن لائن، فون یا ڈاک کے ذریعے واپس موصولی کی تاریخ 31 جولائی سے 31 اکتوبر تک بڑھا دی گئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG