رسائی کے لنکس

دوسرا ٹیسٹ منگل سے شروع ہو گا، فخر زمان ٹیم میں شامل


آسٹریلیا کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں پاکستانی کھلاڑی ٹم پین کے خلاف اپیل کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا دوسرا اور آخری ٹیسٹ منگل سے ابوظہبی میں کھیلا جارہا ہے۔ اوپنر امام الحق انگلی میں فریکچر کے باعث سیریز سے باہر ہو گئے ہیں۔ اُن کی جگہ فخر زمان کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔

دبئی ٹیسٹ میں پاکستان ٹیم جیت کے قریب پہنچ چکی تھی تاہم دوسری اننگز میں آسٹریلوی اوپنر عثمان خواجہ اور کپتان ٹم پین کی ذمہ درانہ بیٹنگ کی وجہ سے میچ ڈرا ہوگیا تھااور بعض حلقوں کی جانب سے کپتان سرفراز احمد کو تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

پاکستان ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے ابوظہبی میں پریس کانفرنس کے دوران پہلے ٹیسٹ میں کامیابی نہ ملنے کا ذمہ دار بیٹسمینوں کو قرار دیا اور کہا کہ خراب بیٹنگ کی وجہ سے ٹیسٹ میں کامیابی نہیں مل سکی۔ پہلی اننگز میں بیٹسمینوں نے سست رفتار بیٹنگ کی۔ ٹیسٹ ٹیم میں تیز رفتار بیٹنگ کرنے والا کھلاڑی بھی ہونا چاہئے۔ فخر زمان کو ٹیسٹ اسکواڈ میں لانے کا مقصد تیز کرکٹ کھیلنے والا کرکٹر شامل کرنا ہے۔

کوچ سے اختلافات کی خبروں سے متعلق ایک سوال پر سرفراز کا کہنا تھا کہ کوچ مکی آرتھر اور میں ایک پیج پر ہیں۔ ہمارے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔ جو ہونا تھا ہو گیا۔ اب میچ پر فوکس کرنا چاہتا ہوں۔

سرفراز احمد نے اپنی ذاتی پرفارمنس پر تنقید کے بارے میں کہا کہ بیٹنگ پر بھرپور توجہ دے رہا ہوں۔ موقع ملا تو پاکستان کے لئے پرفارم کروں گا۔

پاکستانی کپتان نے کھلاڑیوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے دوسرے ٹیسٹ میں اچھی پرفارمنس دیں گے اور کامیاب ہوں گے۔ اچھا موقع ہے کہ اچھی کارکردگی پیش کر کے دوسرا ٹیسٹ جیتیں۔

سرفراز احمد نے مزید کہا کہ پہلے ٹیسٹ میں جیت کےبہت قریب آ گئے تھے مگر جیت نہ سکے۔ ایک وکٹ اور مل جاتی تو میچ جیت سکتے تھے۔

اسپنر شاداب خان ان فٹ ہونے کی وجہ سے پہلا ٹیسٹ نہیں کھیل سکے تھے۔ دوسرے ٹیسٹ میں اُن کی ٹیم میں شمولیت سے متعلق سرفراز احمد نے بتایا کہ شاداب خان فٹ ہیں اور ممکنہ 12 کھلاڑیوں میں شامل ہیں۔ فائنل الیون کا اعلان میچ سے قبل کیا جائے گا۔

ابوظبی کے شیخ زید اسٹیڈیم میں پاکستان کا ریکارڈ بہت شاندار ہے۔ ٹیم پاکستان نے اس گراؤنڈ پر اب تک 10 ٹیسٹ کھیلے ہیں، 5 جیتے اور صرف ایک ہارا ہے جبکہ 4 ڈرا ہوئے۔

پاکستان اور آسٹریلیا کی ٹیمیں اس گراؤنڈ پر صرف ایک بار مدمقابل آئیں اور واحد ٹیسٹ میں جیت پاکستان کا مقدر بنی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG