رسائی کے لنکس

logo-print

بینظیر بھٹو قتل کیس میں امریکی شہری سمیت چھ گواہان کے سمن جاری


سرکاری وکیل ذوالفقار چوہدری نے ہفتہ کو ہونے والی عدالتی کارروائی کے بعد وائس آف امریکہ کو بتایا کہ مارک سیگل کا بیان مقدمے میں نمایاں پیش رفت کا سبب بن سکتا ہے۔

سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی ایک خصوصی عدالت نے امریکی شہری مارک سیگل سمیت چھ گواہان کو پانچ جنوری کو عدالت میں پیشی کے لیے سمن جاری کیے ہیں۔

ہفتہ کو خصوصی عدالت نے راولپنڈی میں اس مقدمے کی سماعت کی جس میں سرکاری وکیل ذوالفقار چودھری نے جج سے استدعا کی کہ مارک سیگل ایک اہم گواہ ہو سکتے ہیں اس لیے انھیں بیان دینے کے لیے بلایا جائے۔

ذوالفقار چوہدری کا کہنا ہے کہ مارک سیگل اپنے ایک بیان میں کہہ چکے ہیں کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے بے نظیر بھٹو کو ٹیلی فون پر متنبہ کیا تھا کہ وطن واپس پر ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے، سرکاری وکیل کے بقول جب سابق صدر نے بے نظیر بھٹو کو فون کیا تھا تو مارک سیگل وہاں موجود تھے۔

ذوالفقار چوہدری نے ہفتہ کو ہونے والی عدالتی کارروائی کے بعد وائس آف امریکہ کو بتایا کہ مارک سیگل کا بیان مقدمے میں نمایاں پیش رفت کا سبب بن سکتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو قتل میں ملوث ملزمان کے تاخیری حربوں کے باعث اس مقدمے کے فیصلے میں تاخیر ہو رہی ہے۔

’’سات ملزمان ہیں جن پر مقدمہ چل رہا ہے اور ان کے علیحدہ علیحدہ وکلا ہیں اور جان بوجھ کر وہ کسی نا کسی بہانے سے غیر حاضر ہو جاتے ہیں۔‘‘

استغاثہ کی درخواست پر جن دیگر پانچ گواہان کو عدالت نے آئندہ پیشی پر بلایا ہے ان میں پولیس کے افسران بھی شامل ہیں۔

بے نظیر بھٹو قتل کیس میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر چکی ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو27 دسمبر 2007ء کو راولپنڈی کے تاریخی لیاقت باغ میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کے بعد واپسی پرایک خودکش حملے میں ہلا ک ہو گئی تھیں۔ پرویز مشرف اس وقت ملک کے صدر تھے اور ان پر بینظیر بھٹو کو مکمل سکیورٹی فراہم نہ کرنے اور قتل کی سازش میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔
XS
SM
MD
LG