رسائی کے لنکس

logo-print

تیسرا ٹیسٹ: نیوزی لینڈ 229 رنز پر 7 کھلاڑی آؤٹ


یاسر شاہ نے کھیل کے پہلے دن شاندار بالنگ کرتے ہوئے تین کھلاڑیوں کو آوٹ کیا

نیوزی لینڈ نے پاکستان کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میچ میں پہلے دن کے اختتام پر دو سو انتیس دوڑیں بنائی تھیں اور اس کے سات کھلاڑی آؤٹ ہوئے تھے

نیوزی لینڈ نے پاکستان کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میچ میں پہلے دن کے اختتام پر 229 رنز بنا لیے ہیں اور اس کے 7 کھلاڑی آؤٹ ہوئے تھے۔ ابوظہبی میں پیر کے روز شروع ہونے والے اس آخری ٹیسٹ میچ میں نیوزی لینڈ نے ٹاس جیتنے کے بعد پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔

نیوزی لینڈ کو شروع میں مشکل پیش آئی۔ لنچ تک نیوزی لینڈ کی ٹیم کے 4 کھلاڑی آؤٹ ہوچکے تھے جبکہ سکور صرف 74 رنز تھا۔ لنچ کے بعد نیوزی لینڈ کی ٹیم نے بہتر بیٹنگ کا مظاہرہ کیا۔ نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیم سن نے ٹیم کو سہارا دیا اور انہوں نے 89 رنز جبکہ بی جے واٹلِنگ نے 42 رنز ناٹ آؤٹ بنائے۔ ولیم سن نے اپنی نصف سینچری 5 چوکوں کی مدد سے بنائی۔ انہوں نے چھیالیس ٹیسٹ میچوں میں 18 سنچریاں سکور کی ہیں۔

دوسرے ناٹ آؤٹ بیٹسمین وِل سمر وِل تھے، جنکا یہ پہلا ٹیسٹ میچ تھا۔ انہوں نے اننگز کے اختتام تک 12 رنز بنائے تھے۔

پاکستان کے لیگ سپنر یاسر شاہ نے پہلے روز 62 رنز دیکر 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، جبکہ بلال آصف نے 57 رنز دیکر 2 کھلاڑی آؤٹ کئے۔

یاسر شاہ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے تیز ترین 200 وکٹ حاصل کرنے سے صرف 2 وکٹ دور ہیں۔ یاسر کا یہ 33واں ٹیسٹ میچ ہے۔ انہوں نے ایک ہی اوور میں 2 وکٹ حاصل کئے۔ یاسر نے جب بالنگ کا آغاز کیا تو نیوزی لینڈ کا سکور ایک وکٹ پر 70 رنز تھا۔ یاسر نے اپنا جادو جگاتے ہوئے 73 رنز پر 2 مزید کھلاڑی آؤٹ کر دئے،اور یوں لنچ پر نیوزی لینڈ کی ٹیم کے 3 کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے اور سکور 73 رنز تھا۔

ابھی تک یہ ریکارڈ آسٹریلیا کے لیگ سپنر، کلیری گلیمیٹ کے پاس ہے ،جنہوں نے سن 1936 میں ساوتھ افریقہ کے خلاف کھیلتے ہوئے، جوہانس برگ کے گراونڈ پع اپنے 36ویں میچ میں 200 وکٹیں مکمل کی تھیں۔

دونوں ٹیمیں ایک ایک ٹیسٹ میچ جیت چکی ہیں، اور سیریز جیتنے کیلئے یہ تیسرا ٹیسٹ دونوں ٹیموں کیلئے اہمیت کا حامل ہے۔ اس میچ کو جیتنے کیلئے پاکستان کی زیادہ تر امیدیں یاسر شاہ سے جڑی ہوئی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG