رسائی کے لنکس

دارالعلوم حقانیہ کو کروڑوں کی حکومتی امداد پر ملا جلا ردعمل


فائل فوٹو

خیبرپختونخواہ حکومت کی جانب سے مذہبی جماعت جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کے مدرسے کو 27 کروڑ روپے سے زائد مزید امداد کی فراہمی پر مختلف سیاسی و سماجی حلقوں کی طرف سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق صوبائی حکومت نے مولانا سمیع الحق کے زیر نگرانی اکوڑہ خٹک، نوشہرہ میں دارالعلوم حقانیہ کو 27 کڑور اور 70 لاکھ روپے کی مزید امداد دی ہے جب کہ گزشتہ سال اسی مدرسے کو صوبائی حکومت نے 30 کڑور روپے کی امداد فراہم کی تھی۔

قوم پرست تنظیم اولسی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر سید عالم محسود نے صوبائی حکومت کے اس اقدام پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا کہ ایسے اقدام انتہا پسندی کو روکنے کی کوششوں میں کارگر ثابت نہیں ہو سکتے۔

وائس آف امریکہ کے ساتھ گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ "آپ پنجاب میں دیکھیں کہ جماعت الدعوۃ کو سرکاری تحویل میں لینے کا (کہا گیا) مطلب یہ نہیں کہ وہ تنظیم ختم ہو گئی۔۔۔جو پنجاب حکومت کرتی تھی یہاں وہ پرویز خٹک دارالعلوم حقانیہ کے ساتھ کر رہے ہیں تو یہ نئی بات نہیں ہے نئی بات تب ہوگی جب یہ ان کو امداد دینا بند کر دیں گے اور وہ ہو نہیں رہا، اس لیے پاکستان پر انتہا پسندی کی معاونت کرنے کا جو الزام ہے اس کے واضح دلائل اور ثبوت موجود ہیں۔"

دارالعلوم حقانیہ میں طالبان کے کئی اہم راہنما زیر تعلیم رہے ہیں جن میں اس تحریک کے بانی امیر ملا عمر بھی شامل تھے اور مولانا سمیع الحق کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ طالبان انھیں اپنا استاد تصور کرتے ہوئےعزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک سرگرم کارکن رخشندہ ناز نے بھی صوبائی حکومت کے اس اقدام پر شدید اعتراض کیا ہے۔

"میں سمجھتی ہوں کہ یہ بہت افسوسناک بات ہے کہ اس صوبے میں اوقاف تو لگتا ہے کہ صرف مسلمانوں کے مدرسوں کو دیکھ رہا ہے یہاں جو مذہبی اقلیتوں کے ادارے ہیں ان کی اتنی بری حالت ان کی آپ کوئی مدد نہیں کرتے۔۔۔حکومت کے پاس مدرسوں میں لوگوں کو خوش کرنے کے لیے بہت کچھ ہے ہم سب اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہیں۔"

خیبرپختونخواہ، بلوچستان اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں فروغ تعلیم کے لیے قائم ایک ادارے پوہا(POHA)نے مولانا سمیع الحق کے زیر نگرانی چلنے والے مدرسے کو خطیر رقم فراہم کرنے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اچھی بات ہے کیونکہ مدرسے میں پڑھنے والے بچوں کا بھی اس ملک پر حق تو بنتا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ عموماً مدرسو ں کے بچے زیادہ مستحق ہوتے ہیں۔

تنظیم کے بقول ضرورت اس امر کی ہے کہ مذکورہ رقم اسی مدرسے کے بچوں کی بنیادی ضروریات پر شفاف طریقے سے حکومتی نگرانی میں خرچ ہو۔

اپنے بیان میں تنظیم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ 2011 میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قائم کردہ کمیشن کے زیر انتظام چلنے ہونے والے اداروں کو بھی ان کی ضرورت کے مطابق فنڈزفراہم کیے جائیں۔

صوبائی حکومت دارالعلوم حقانیہ کو دی جانے والی معاونت پر ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہتی ہے کہ صوبے میں دینی مدارس کی بہتری اور انھیں قومی دھارے میں لانے کے لیے انھیں جدید علوم اور سہولتوں سے آراستہ کرنا ضروری ہے اور اسی مد میں مدارس کو مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔

مولانا سمیع الحق کی مذہبی جماعت کے تعلقات خیبرپختونخواہ میں حکمران پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ بہت اچھے ہیں اور آئندہ ماہ سینٹ انتخابات میں مولانا سمیع الحق تحریک انصاف کے تعاون سے حصہ لے رہے ہیں باوجود اس کے کہ صوبائی اسمبلی میں ان کی مذہبی جماعت کی کوئی نمائندگی نہیں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG