رسائی کے لنکس

پاکستانی فوج نے ملک میں انتہاپسندی کے خاتمے میں نوجوانوں کے کردار سے متعلق جمعرات کو راولپنڈی میں ایک سیمینار منعقد کیا۔

اس سیمینار سے خطاب میں فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان کی آبادی کا نصف 25 سال سے کمر عمر افراد پر مشتمل ہے اور اُن کے شدت پسندی کی جانب مائل ہونے کے امکانات ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ایسی صورت حال میں پاکستان ایک دو راہے پر کھڑا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ انتہا پسندی کا تعلق اُس ماحول سے بھی ہوتا ہے جس میں ہم رہ رہے ہوتے ہیں۔

فوج کے سربراہ نے کہا کہ اس تناظر میں ہمیں یہ اعتراف کرنا چاہیئے کہ خراب نظام حکومت اور معاشرے میں انصاف کی کمی کے سبب پاکستانی نوجوانوں کو انتہا پسندی کی جانب راغب کیا جا سکتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی قوم نے دہشت گردی کو مسترد کیا ہے اور اسی طرح انتہا پسندی کو بھی رد کیا جائے گا۔

ماہر تعلیم اے ایچ نیئر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ نوجوانوں کو انتہا پسندی سے دور رکھنے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

’’اگر آپ کو شدت پسندی، انتہا پسندی، عدم رواداری کا مقابلہ کرنا ہے تو آپ کو قانونی طور پر ایسے اقدمات کرنے ہوں گے جو اب تک نہیں کیے گئے ہیں۔‘‘

مذہبی شخصیت راغب حسین نعیمی کہتے ہیں کہ انتہا پسندی کی جانب مائل نوجوانوں کے ساتھ مکالمے کی ضرورت ہے۔

’’مکالمہ اس بنیاد پر ہو کہ ہم ایک راستہ دیتے ہیں آپ آئیں اور قومی دھارے میں شامل ہوں اور ان میں ان افراد کو چن لیں کہ اس مکالمے کی بنیاد پر کہ کون کون ریاست کی عملداری کو تسلیم کرنے کو تیار ہے۔ ان کے بارے میں لائحہ عمل مرتب کریں اور جو ریاست کی عملداریکو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، میں نہیں سمجھتا کہ ان کے لیے کوئی گنجائش ہونی چاہیے۔‘‘

اس سے قبل فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے سیمینار کے افتتاحی اجلاس سے خطاب میں کہا کہ داعش جیسی شدت پسند تنظیمیں نئی نسل کو راغب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ آپریشن ردالفساد کا مقصد امن واستحکام کا قیام اور معاشرے سے انتہاپسندی کا خاتمہ ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG