رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی ایلچی کی فلسطینی لیڈر سے ملاقات



مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکہ کے ایلچی جارج مچل نے اسرائیلی فلسطینی امن مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کی ایک اور کوشش کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے کا دورہ کیا ہے۔

مچل نے جمعے کے روز رملّہ میں فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ مذاکرات کیے ہیں۔ اس سے ایک روز پہلے انہوں نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامن نتن یاہو اور صدر شمعون پیریز سے ملاقات کی تھی۔

یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب اس بارے میں اُمیدیں ماند پڑتی جا رہی ہیں کہ امریکہ جلد ہی کسی وقت امن مذاکرات دوبارہ شروع کراسکے گا۔

مسٹر اوباما نے امریکی جریدے ٹائم کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ اُن کی انتظامیہ نے اسرائیلوں اور فلسطینیوں کو امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے اپنی صلاحیت کے بارے میں مبالغے سے کام لیا تھا۔انہوں نے کہا ہے کہ اسرائیلوں اور فلسطینیوں کو مذاکرات کی میز پر لے آنا،“ حقیقت میں مشکل ” ہے۔ یہ انٹرویو جمعرات کے روز شائع ہوا تھا۔

مچل نے جمعرات کے روز کہا تھا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کی کوششوں کی پیچیدگیوں اور مشکلات کو تسلیم کرتے ہیں۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم نتن یاہو نے اسی ہفتے فلسطینی لیڈروں پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ امن مذاکرات شروع کرنے کے لیے امریکہ اور اسرائیل کے مطالبات کا جواب نہیں دے رہے ہیں۔

مسٹر نتن یاہو کا یہ بھی کہنا ہے کہ امن کے معاہدے کے ایک حصّے کے طور پر اسرائیل کو لازمی طور پر اسلحہ کی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے اپنی کچھ فوج مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے میں تعینات رکھنا ہو گی۔فلسطینی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ صائب ارکات نے اس مطالبے کو ردّ کر دیا ہے اور سوال کیا ہے کہ آخر اسرائیل، فلسطینی سر زمین پر رہنے پر کیوں مُصر ہے۔

فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ امن کے معاہدے میں لازمی طور پر مغربی کنارے سے اسرائیل کے مکمل انخلا کا تقاضا شامل ہونا چاہئیے۔

XS
SM
MD
LG