رسائی کے لنکس

logo-print

اسرائیلی فائرنگ سے ہلاکتوں کے بعد فلسطین میں کشیدگی


فائل

فلسطین کے علاقے مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے دو نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے

فلسطین کے علاقے مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے دو نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے جب کہ علاقے میں اسرائیل مخالف مظاہروں میں شدت آگئی ہے۔

مغربی کنارے میں اسرائیل مخالف مظاہروں کا سلسلہ ایک اسرائیلی جیل میں عمر قید کی سزا کاٹنے والے کینسر کے مریض 64 سالہ فلسطینی میسرہ ابو حمدیہ کے انتقال کے بعد منگل کو شروع ہوا تھا۔

فلسطینی حکام نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے ابو حمدیہ کے مرض سے واقفیت کے باوجود انہیں علاج کی سہولت سے محروم رکھا تھا۔

ابو حمدیہ کے انتقال پر مغربی کنارے میں نوجوانوں نے اسرائیل مخالف مظاہرے کیے تھے جن میں سے ایک مظاہرے کے شرکا پر اسرائیل کی فائرنگ سے دو نوجوان ہلاک ہوگئے تھے۔

اسرائیلی فوج کے ایک بیان کے مطابق مغربی کنارے کے شمالی علاقے میں واقع ایک اسرائیلی چوکی کے نزدیک بدھ کو مظاہرے کے دوران میں چار فلسطینی نوجوانوں نے چوکی پر فائر بم پھینکے تھے جس پر اسرائیلی فوج نے ان پر فائر کھول دیا تھا۔

اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے قریبی قصبے کے رہائشی دو نوجوان، 17 سالہ عامر نصر اور 18 سالہ نجی بیلبیسی ہلاک ہوگئے تھے۔

خیال رہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے اسرائیلی محاصرے کا شکار غزہ کی پٹی کے برعکس مغربی کنارے کا فلسطینی علاقہ گزشتہ برسوں کے دوران میں نسبتاً پر امن رہا ہے۔

جمعرات کو مغربی کنارے کے شہر ہیبرون میں تینوں فلسطینیوں کی نمازِ جنازہ میں ہزاروں فلسطینی باشندے شریک ہوئے جو اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کر رہے تھے۔

اسرائیلی جیل میں انتقال کرنے والے ابو حمدیہ کی میت کو مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ دفن کیا گیا اور ان کی نمازِ جنازہ اور تدفین کے موقع پر نقاب پوش افراد ہوائی فائرنگ کرتے رہے۔

اسرائیلی فائرنگ میں فلسطینی نوجوانوں کی ہلاکت کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فلسطین کے صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے طاقت کا بہیمانہ استعمال یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ فلسطینی علاقوں میں ابتری پھیلا کر امن کی جانب پیش رفت سے بچنا چاہتا ہے۔

خیال رہے کہ خطے میں کشیدگی میں ایک ایسے وقت میں اضافہ ہوا ہے جب امریکہ کے صدر براک اوباما دو ہفتے قبل ہی علاقے کا دورہ کرکے واپس لوٹے ہیں اور امریکی وزیرِ خارجہ آئندہ ہفتے دوبارہ اسرائیل جانے والے ہیں۔
XS
SM
MD
LG