رسائی کے لنکس

logo-print

فلسطینی صدر کا امن مذاکرات پر مایوسی کا اظہار


فلسطینی صدر محمود عباس اسرائیلی عوام سے براہِ راست رابطہ کرکے اسرائیلی رہنماؤں سےمطالبہ کررہے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ امن عمل پر فوری پیش رفت کے حصول کے لیے آگے بڑھیں۔ اُنھوں نے خبر دار کیا کہ دو ریاستی حل کا وقت ہاتھوں سےنکلتا جا رہا ہے۔

بدھ کو اسرائیلی صحافی کو دیے گئے ایک منفرد انٹرویومیں مسٹر عباس نے کہا کہ وہ براہِ راست مذاکرات سے قبل فلسطینی، سرحدی معاملات اور سلامتی کے امورکےسلسلے میں پیش رفت دیکھنا چاہیں گے۔

فلسطینی رہنما نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل فلسطینی امن سمجھوتے کے حصے کے طور پر اُنھوں نے اسرائیل کو تجویز پیش کی ہے کہ فلسطینی علاقوں میں بین الاقوامی افواج کو تعینات کیا جائے۔

مسٹر عباس نے کہا کہ خطے میں سکیورٹی کو یقینی بنانے کی خاطر وہ آئندہ کی فلسطینی ریاست میں نیٹو یا اقوامِ متحدہ کی افواج کی تعیناتی کوقبول کریں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نتن یاہو کو یہ تجویز امریکی ثالثوں کے ذریعے موصول ہو چکی ہے۔

جمعرات کومسٹر نتن یاہو نےاِس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ طرفین کو سیدھا براہ راست مذاکرات کی طرف جانا چاہیئے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ چند شرائط مانے جانے کی صورت میں وہ پکڑے ہوئے اسرائیلی فوجی کےبدلے 1000فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے پر تیار ہیں۔

XS
SM
MD
LG