رسائی کے لنکس

امن عمل میں امریکہ کا کوئی کردار قبول نہیں: فلسطینی صدر


مسلم ممالک کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ترک صدر رجب طیب ایروان فلسطین کے صدر محمود عباس کا استقبال کر رہے ہیں

فلسطینی صدر نے اقوامِ متحدہ سے مشرقِ وسطیٰ امن عمل کی قیادت سنبھالنے اور اس مقصد کے لیے نیا طریقۂ کار وضع کرنے کی بھی اپیل کی۔

فلسطین کے صدر محمود عباس نے کہا کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے بعد فلسطینی مشرقِ وسطیٰ امن عمل میں امریکہ کا کوئی کردار قبول نہیں کریں گے۔

بدھ کو ترکی کے شہر استنبول میں مسلم ممالک کی تنظیم 'او آئی سی' کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمود عباس نے صدر ٹرمپ کے یروشلم سے متعلق فیصلے کو "ایک جرم" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے عالمی امن خطرے میں پڑگیا ہے۔

فلسطینی صدر نے اقوامِ متحدہ سے مشرقِ وسطیٰ امن عمل کی قیادت سنبھالنے اور اس مقصد کے لیے نیا طریقۂ کار وضع کرنے کی بھی اپیل کی۔

صدر محمود عباس نے کہا کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کے بعد امریکہ اس کام کا "اہل" نہیں رہا۔

فلسطینی صدر کا کہنا تھا کہ فلسطینی اسرائیل کے ساتھ اپنے تنازعات کا پرامن حل چاہتے ہیں لیکن یروشلم سے متعلق امریکی موقف میں تبدیلی کے بعد امریکہ کو ایک غیر جانب دار ثالث کی حیثیت سے قبول نہیں کیا جاسکتا۔

صدر محمود عباس کا یہ موقف ماضی کے ان کے موقف کے برخلاف ہے کیوں کہ وہ ماضی میں امریکہ کی فلسطین اسرائیل تنازع کے واحد ثالث کی حیثیت تسلیم کرتے رہے ہیں۔

گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ کی جانب سے یروشلم سے متعلق امریکی پالیسی میں تبدیلی کے اعلان کے بعد فلسطینی رہنماؤں نے کہا تھا کہ صدر عباس امریکی نائب صدر مائیک پینس کے آئندہ ہفتے ہونے والے مغربی کنارے اور اسرائیل کے دورے کے دوران ان سے بطور احتجاج ملاقات نہیں کریں گے۔

صدر عباس اور نائب صدر مائیک پینس کے درمیان مغربی کنارے کے شہر بیت الحم میں ملاقات ہونا تھی جسے فلسطینی حکام نے امریکہ کے انتباہ کے باوجود منسوخ کردیا ہے۔

'او آئی سی' کے سربراہ اجلاس سے اپنے افتتاحی خطاب میں ترک صدر رجب طیب ایردوان نے مسلم ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ فوراً فلسطینی کی ریاست اور یروشلم کو اس کے دارالحکومت کی حیثیت سے تسلیم کرنے کا اعلان کریں۔

صدر ایردوان صدر ٹرمپ کے یروشلم سے متعلق فیصلے کے سب سے بڑے ناقد کی حیثیت سے سامنے آئے ہیں جنہوں نے اس مسئلے پر متفقہ موقف اپنانے کے لیے مسلم ممالک کا سربراہی اجلاس طلب کیا تھا۔

اپنے خطاب میں ترک صدر نے اسرائیل کو ایک غاصب اور دہشت گرد ریاست بھی قرار دیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG