رسائی کے لنکس

logo-print

فلسطین کی جانب سے امن مذاکرا ت سے دستبرداری کی دھمکی


فلسطینی رہنما محمود عباس نے امریکی صدر بارک اوباما کو خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل کی جانب مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں تجاوزات کی تعمیر کا عمل تیز کیا گیا تو وہ صیہونی ریاست کے ساتھ آئندہ ماہ ہونے والے امن مذاکرات سے دستبردار ہوسکتے ہیں۔

پیر کے روز رملہ میں اعلیٰ فلسطینی مذاکرات کار صائب اراکات نے صحافیوں کو بتایا کہ فلسطینی صدر کی جانب سے امریکی ہم منصب کو بھجوائے جانے والے ایک خط میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینی مقبوضات میں صیہونی بستیوں کی تعمیر میں تیزی مجوزہ مذاکرات کی ناکامی کا باعث بن سکتی ہے۔

واضح رہے کہ فلسطین و اسرائیل کے درمیان گزشتہ دو سال سے معطل امن مذاکرات کا نیا دور امریکی تعاون سے آئندہ ماہ واشنگٹن میں ہونا قرار پایا ہے جس میں فلسطینی مقبوضات میں صیہونی بستیوں کی تعمیر کا معاملہ سرفہرست ہوگا۔

عالمی برادری کے دبائو پر اسرائیل کی جانب سے فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر کا عمل دس ماہ کے عرصے کے لیے سست کردیا گیا تھا تاہم دس ماہ کا یہ عرصہ ستمبر کے اواخر میں مکمل ہورہا ہے اور اسرائیلی حکومت بستیوں کی تعمیر میں سست رفتاری برقرار رکھنے کے معاملے پر اندرونی خلفشار کا شکار ہے۔

اسرائیلی نائب وزیرِاعظم سلوان شالوم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ان کی حکومت کی جانب سے یہودی بستیوں کی تعمیر میں سست رفتاری کا عمل جاری رکھا جائے گا۔

تاہم صائب اراکات کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حکومت کو یہودی بستیوں کی تعمیر یا امن میں سے ایک چیز کا انتخاب کرنا ہوگا۔ ان کے الفاظ میں "اسرائیلی بیک وقت دونوں چیزیں حاصل نہیں کر سکتے"۔

اراکات کا کہنا تھا کہ اگر اسرائیل کی جانب سے فلسطینی مقبوضات میں تعمیر ات جاری رہیں تو ان کی جانب سے یہ طے کیا جاچکا ہے ایسی صورت میں صیہونی ریاست کے ساتھ مذاکرات کا عمل روک دیا جائے گا۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ فلسطینی حکام سمجھتے ہیں کہ اگر مذاکراتی عمل جاری رہا تو دونوں فریق ایک سال کے اندر اندر کسی امن معاہدے پر متفق ہوسکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG