رسائی کے لنکس

logo-print

فلسطین یکم اپریل کو آئی سی سی رکن بن جائے گا: بان کی مون


آئی سی سی کا حصہ بننے کے بعد، فلسطین کو اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کے الزامات دائر کرنے کا موقع ملے گا۔ دوسری طرف یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس اقدام سے خود فلسطین کے اپنے خلاف کئی مقدمات کھولے جا سکتے ہیں

اقوام ِمتحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کی جانب سے جاری کیے گئے ایک نوٹس میں کہا گیا ہے کہ فلسطین یکم اپریل سے عالمی فوجداری عدالت میں شمولیت اختیار کرے گا۔

بان کی مون کی جانب سے جاری کردہ نوٹس پر منگل کی تاریخ درج ہے اور یہ اقوام ِمتحدہ کی ویب سائیٹ پر شائع کیا گیا ہے۔ اس نوٹس کے علاوہ ویب سائیٹ پر فلسطینی صدر محمود عباس کی جانب سے گذشتہ ہفتے جاری کیے گئے دستخط شدہ دیگر کئی معاہدوں کو بھی منظوری کے بعد شائع کیا گیا ہے۔

آئی سی سی کا حصہ بننے کے بعد، فلسطین کو اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کے الزامات دائر کرنے کا موقع ملے گا۔ دوسری طرف یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس اقدام سے خود فلسطین کے اپنے خلاف کئی مقدمات کھولے جا سکتے ہیں جن کا فلسطین کو ممکنہ طور پر سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس کی جانب سے عالمی فوجداری عدالت میں شمولیت پر زور اس وقت دیا گیا جب اقوام ِ متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے فلسطین کی جانب سے الگ ریاست کے قیام کے لیے ڈیڈلائن مقرر کرنے کی قرارداد کو مسترد کر دیا گیا تھا۔

فلسطین کی پیش کردہ اس قرارداد کے بعد سخت اسرائیلی رد ِعمل سامنے آیا اور اسرائیل نے فلسطینیوں کی 125 ملین ڈالر کی رقم کی منتقلی روک دی۔

امریکہ کی جانب سے بھی فلسطین کی طرف سے اقوام ِمتحدہ میں پیش کردہ قرارداد کی مخالفت کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان یہ معاملہ باہمی گفت و شنید سے حل ہونا چاہیئے نہ کہ اقوام ِمتحدہ کی مداخلت سے۔

عالمی فوجداری عدالت میں نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے کیسز درج کیے جاتے ہیں۔ آئی سی سی کو گرفتاریوں کا حق حاصل نہیں ہے، مگر عالمی فوجداری عدالت وارنٹس جاری کر سکتی ہے جس سے مشتبہ شخص کو سفر کرنے میں دشواریاں پیش آسکتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG