رسائی کے لنکس

logo-print

مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں ہزاروں فلسطینیوں کا مارچ


واپسی کے حق کو فلسطینی قومیت پرستی کا ایک بڑا ستون قرار دیا جاتا ہے

مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں ہزاروں فلسطینیوں نے مارچ کیا۔ وہ 1948ء میں اسرائیل کی تشکیل کو ایک بڑی تباہ کُن تبدیلی قرار دیتے ہیں۔

1948ء میں اسرائیل کی آزادی کے لیے جنگ کے دوران تقریباً سات لاکھ فلسطینیوں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر جانا پڑا تھا اور وہ پناہ گزیں ہوگئے تھے۔

مظاہرین نے بڑی بڑی چابیاں اُٹھا رکھی تھیں جو اُن کے واپسی کے حق کی علامت تھیں۔ اِس حق کو فلسطینی قومیت پرستی کا ایک بڑا ستون قرار دیا جاتا ہے۔

فلسطینی مطالبہ کرتے ہیں کہ پناہ گزیں اور اُن کی نسلوں کو اسرائیل میں اُن کے پرانے گھروں میں جانے کی اجازت دی جائے۔

اسرائیلی عربوں نے بھی مظاہروں میں شرکت کی۔

اسرائیل میں ‘اسلامک موومنٹ’ کے لیڈر راحت صلاح نے ایک ریلی کو بتایا کہ فلسطینی اپنے سابقہ گھروں کے دروازے کھولنے کے لیے اپنی چابیوں کے ساتھ واپس لوٹیں گے۔ صلاح کہہ رہے تھے کہ پناہ گزیں اُن علاقوں کو واپس لوٹیں گے جو اب اسرائیل کا حصہ ہیں، جِن میں گلیلی، ہائفہ اور جَفا کےعلاقے شامل ہیں۔

اسرائیل فلسطینی مذاکرات میں تقریباً 20برس سے واپسی کا حق سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک رہا ہے، اور امکان یہی ہے کہ ایک ہفتہ قبل شروع ہونے والے نئے امن مذاکرات میں مزید رکاوٹیں کھڑی ہوں گی۔

تمام اسرائیلی حکومتیں چاہے اُن کا تعلق دائیں بازو یا بائیں بازو سے ہے وہ فلسطینیوں کے واپسی کے حق کو مسترد کرتی ہیں۔

اسرائیل کا خیال ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں ممکنہ طور پر مخاصمت رکھنے والے فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی اسرائیل کے لیے ایک قومی خود کشی کے مترادف ہوگی۔

XS
SM
MD
LG