رسائی کے لنکس

logo-print

’کاروبار بچوں کا ہے، وزیر اعظم جوابدہ نہیں‘


مخدوم علی خان نے کہا کہ اُن کے موکل نے بیرون ملک کاروبار بینکوں سے قرضہ لے کر شروع کیا اور اس بارے حقائق جاننے کے لیے عدالت اگر چاہے تو ایک کمیشن بنا سکتی ہے، جو بیرون ملک جا کر معلومات اکٹھی کر سکتا ہے۔

پاناما پیپرز میں وزیراعظم نواز شریف کے بچوں کے بیرون ملک اثاثوں اور رقوم کی مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے پاکستان سے باہر منتقلی کے بارے میں دائر درخواستوں کی سماعت عدالت عظمیٰ میں ہو رہی ہے۔

جمعرات کو وزیراعظم نوازشریف کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل کا سلسلہ جاری رکھا، اس دوران جسٹس آصف سعید کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی بینچ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ فریقین سچ کو سامنے نہیں لا رہے ہیں۔

وزیراعظم کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ اُن کے موکل کا نام نا تو پاناما لیکس میں آیا ہے اور نا ہی بیرون ملک اُن کی کوئی جائیداد ہے۔

مخدوم علی خان نے کہا کہ وزیراعظم کے بچے بیرون ملک کاروبار کرتے ہیں اور اُن ہی کے وکیل اس بارے میں اپنی وضاحت پیش کریں گے۔

مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اپنے بچوں کے کاروبار کے جواب دہ نہیں ہیں۔

اُنھوں نے پاناما لیکس کے انکشافات کے بعد وزیراعظم نواز شریف کے قومی اسمبلی میں بیان کے بارے میں کہا کہ اس میں اُن کے موکل نے اپنے کارروبار سے متعلق سرسری معلومات دی تھیں اور مخدوم علی خان کے بقول کاروبار کے بارے میں تفصیلات نا بتانا جھوٹ کے زمرے میں نہیں آیا۔

تاہم بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ بیرون ملک جائیداد کی ملکیت تسلیم کیے جانے کے بعد اب ’منی ٹریل‘ کا بارے ثبوت بھی وزیراعظم پر ہے۔

اس سے قبل ایک مرکزی درخواست گزار جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکیل نعیم بخاری نے اپنے دلائل میں کہا تھا کہ وزیراعظم لندن میں فلیٹس کی خریداری کے لیے رقم کے ذرائع کو واضح کریں۔

مخدوم علی خان نے کہا کہ اُن کے موکل نے بیرون ملک کاروبار بینکوں سے قرضہ لے کر شروع کیا اور اس بارے حقائق جاننے کے لیے عدالت اگر چاہے تو ایک کمیشن بنا سکتی ہے، جو بیرون ملک جا کر معلومات اکٹھی کر سکتا ہے۔

تحریک انصاف کے ایک مرکزی راہنما فواد چودھری نے سپریم کورٹ کے باہر ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان کے لوگ وزیراعظم کے اثاثوں کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔

’’پاکستان کے لوگ اس وقت جواب چاہتے ہیں وزیراعظم سے کہ جو اربوں روپے کی جائیدادیں انھوں نے بنائیں ان کا وہ حساب دیں۔۔۔ یہ کہنا کہ نا ان کے والد صاحب کا حساب ان کے پاس ہے، نا بچوں کا حساب ان کے پاس ہے اس سے بات نہیں چلے گی ۔۔۔ پاکستان کے لوگ جس احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں وہ کھل کر اس عدالت میں سامنے آ چکا ہے جوں جوں عدالتی کارروائی آگے بڑھے گی آپ دیکھیں گے کہ یہ معاملہ اور آگے چلے گا یہ بھی وزیر اعظم کو ثابت کرنا پڑے گا کہ دبئی کی ملیں، جدہ کی ملیں کن پیسوں سے لگیں کیسے لگیں۔‘‘

دوسری طرف حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والی وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف وزیراعظم نواز شریف کے خلاف محض الزام تراشی کر رہی ہے۔

’’پاناما کیس سے میاں محمد نواز شریف کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔۔۔ جن بھی جائیدادوں کا ذکر آیا ہے اس کا کوئی تعلق نا منی لانڈرنگ سے ہے نا ٹیکس بچانے سے ہے، نا کسی قسم کا کوئی اثاثہ چھپانے سے ہے اور نا پاکستان کی قوم کا پیسہ لوٹنے سے ہے یہ وہ چار الزامات ہیں جھوٹے الزامات ہیں جن پر عمران خان صاحب نے پہلے دن سے سیاست کرنے کی کوشش کی۔‘‘

گزشتہ سال اپریل میں پاناما پیپرز میں سامنے آنے والی فہرست میں غیر ملکی اثاثے اور آف شور کمپنیاں رکھنے والوں کے ناموں میں وزیراعظم کے تینوں بچوں کے نام بھی تھے جس پر حزب مخالف خصوصاً پاکستان تحریک انصاف وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتی آرہی ہے۔

گزشتہ سال اکتوبر پاکستان تحریک انصاف، جماعت اسلامی، عوامی مسلم لیگ، جمہوری وطن پارٹی اور ایک وکیل طارق اسد نے پاناما پیپرز کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی تھیں۔

اس مقدمے کی سماعت جاری ہے اور جمعہ کو بھی وزیراعظم نواز شریف کے وکیل اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔

XS
SM
MD
LG