رسائی کے لنکس

logo-print

پاناما لیکس: سپریم کورٹ میں قطری شہزادے کا ایک اور خط پیش


پاکستان کی عدالت عظمٰی میں پاناما لیکس کے معاملے پر دائر درخواستوں کی سماعت جمعرات کو بھی جاری رہی اور اس دوران وزیراعظم نواز شریف کے بیٹے حسین نے اضافی دستاویزات جمع کروائیں جن میں قطری شہزادے کا ایک اور خط بھی شامل ہے۔

یہ خط حسین کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے سامنے جمع کروایا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی قطر کے سابق وزیراعظم و وزیر خارجہ شہزادہ حمد بن جاسم بن جبر الثانی کا ایک تحریری بیان عدالت کے روبرو پیش کیا گیا تھا۔

وزیراعظم نواز شریف کے خاندان کے زیر استعمال لندن کے ایک مہنگے علاقے مے فیئر میں موجود فلیٹس کے بارے میں وزیراعظم کے بیٹوں کا موقف ہے کہ ان فلیٹس کی خریداری کے لیے رقم پاکستان سے منتقل نہیں ہوئی اور اپنے اس موقف کی دلیل کے لیے انھوں نے قطر کے ایک شہزادے کا خط بطور دستاویزی ثبوت پیش کیا تھا، جس میں کہا گیا ہے کہ فلیٹس کی خریداری کے لیے قطر کے شاہی خاندان کے ساتھ ہونے والی کاروباری شراکت سے حاصل کردہ رقم خرچ ہوئی۔

نئے خط میں قطری شہزادے کے کاروبار کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا گیا کہ شیخ حماد بن جاسم بن جابر الثانی کا کاروبار دنیا کے مختلف علاقوں میں پھیلا ہوا ہے۔

ایک مرکزی درخواست گزار جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکیل نعیم بخاری نے اپنے دلائل میں کہا تھا کہ وزیراعظم لندن میں فلیٹس کی خریداری کے لیے رقم کے ذرائع کو واضح کریں۔

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف اور اُن کے بچوں کے خلاف دائر کی گئی درخواستیں سیاسی نوعیت کی ہیں تاہم درخواست گزار جماعتیں اس کی نفی کرتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG