رسائی کے لنکس

logo-print

پاناما لیکس: ایف بی آر اور نیب چیئرمین سے کڑے سوالات


جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہ میں قائم پانچ رکنی بینچ نے ’ایف بی آر ‘ کے چیئرمین ڈاکٹر ارشاد سے سخت سوال کیے کہ اُن کے ادارے نے پاناما لیکس کے سامنے آنے کے بعد اب تک کیا اقدامات کیے ہیں۔

پاکستان کی عدالت عظمٰی کے پانچ رکنی بینچ نے پاناما پیپرز میں ہونے والے انکشافات سے متعلق دائر درخواستوں کی جب منگل کو سماعت شروع کی تو قومی احتساب بیورو ’نیب‘ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو ’ایف بی آر‘ کے سربراہان عدالت میں پیش ہوئے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی بینچ نے ’ایف بی آر ‘ کے چیئرمین ڈاکٹر ارشاد سے سخت سوال کیے کہ اُن کے ادارے نے پاناما لیکس کے سامنے آنے کے بعد اب تک کیا اقدامات کیے ہیں۔

چیئرمین ’ایف بی آر‘ ڈاکٹر ارشاد نے بتایا کہ پاناما کے ساتھ اس ضمن میں براہ راست معلومات کے حصول سے متعلق کوئی معاہدہ نہیں ہے لیکن اُن کے بقول پاکستان کی وزارت خارجہ کے ذریعے رابطہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

جس پر پانچ رکنی بینچ نے کہا کہ کئی ماہ گزر جانے کے باوجود محض رابطے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

عدالت نے ’ایف بی آر‘ کے سربراہ سے یہ بھی پوچھا کہ پاناما لیکس میں جن پاکستانی شخصیات کی آف شور کمپنیوں کے نام سامنے آئے کیا اُنھیں نوٹس بجھوائے گئے، تو ڈاکٹر ارشاد نے کہا کہ وزیراعظم کے تین بچوں بیٹی مریم نواز، بیٹوں حسین اور حسن نواز سمیت 343 افراد کو ’ایف بی آر‘ نے نوٹس بجھوائے۔

ڈاکٹر ارشاد نے بتایا کہ مریم نواز نے اپنے جواب میں بتایا کہ نا تو وہ کسی آف شور کمپنی کی مالک ہیں اور نا ہی بیرون ملک اُن کی کوئی جائیداد ہے۔

جب کہ حسین نواز اور حسن نواز نے کہا کہ وہ طویل عرصے سے بیرون ملک مقیم ہیں جہاں وہ کارروبار کر رہے ہیں۔

’ایف بی آر‘ کی طرف سے اس معاملے پر سست روی پر عدالت عظمٰی نے برہمی کا اظہار کیا۔

جب چیئرمین ’نیب‘ قمر زمان چوہدری پانچ رکنی بینچ کے سامنے پیش ہوئے تو اُن سے بھی یہ ہی پوچھا گیا کہ قومی احتساب بیورو نے اب تک اس بارے میں کیا کارروائی کی ہے۔

تاہم عدالت چیئرمین نیب کے جوابات سے مطمئن نظر نہیں آئی۔

منگل کو ہی اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے بھی دلائل دیئے، سماعت بدھ کو ملتوی کر دی گئی اور عدالت نے اٹارنی جنرل سے کہا ہے کہ وہ بدھ کو اپنے دلائل مکمل کریں۔

XS
SM
MD
LG