رسائی کے لنکس

logo-print

عمران خان کا دھرنا نہ دینے کا اعلان ’یوم تشکر‘ منانے کا فیصلہ


تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے دو نومبر کو اسلام آباد میں ہونے والا اپنا احتجاج منسوخ کرتے ہوئے کہا کہ اب اُن کی جماعت’’یوم تشکر‘‘ منائے گی۔

اُنھوں نے یہ اعلان پاناما لیکس سے متعلق دائر درخواستوں کی سپریم کورٹ میں سماعت شروع ہونے اور عدالت عظمٰی کی طرف اس معاملے کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنانے کے فیصلے کے بعد کیا۔

اسلام آباد کے علاقے بنی گالا میں عمران خان کے گھر کے باہر گزشتہ چند روز سے خاصی کشیدگی رہی اور کئی بار پولیس اور عمران خان کے حامیوں میں جھڑپیں بھی ہوئیں۔

تاہم منگل کو عدالت عظمیٰ میں ہونے والی سماعت کے بعد عمران خان نے اپنی رہائش گاہ کے باہر تحریک انصاف کے کارکنوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی جماعت اب یوم تشکر منائے گی۔

’’کیونکہ سپریم کورٹ نے تلاشی شروع کر دی ہے ہمارا تو مقصد ہی یہاں آنے کا نواز شریف کی تلاشی لینا تھا تو کیونکہ انھوں نے کر دیا ہے۔۔۔تو سپریم کورٹ کے کہنے کے اوپر ہم نے اب فیصلہ کیا ہے کہ کل (دو نومبر) کو ہم اللہ کا شکر ادا کریں گے یوم تشکر منائیں گے پریڈ گراؤنڈ کے اوپر دس لاکھ لوگوں کو کل ہم اکٹھا کریں گے۔‘‘

عمران خان نے پاناما لیکس کے معاملے کی تحقیقات نا ہونے پر دو نومبر کو اپنے لاکھوں حامیوں کے ہمراہ اسلام آباد بند کرنے کا اعلان کر رکھا تھا۔

اُدھر وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے منگل کو اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس میں عمران خان کے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔

’’جو پیش رفت ہوئی ہے اور پھر عمران خان کا ایک موقف بھی سامنے آیا ہے یہ کسی کی نا جیت ہے اور نا ہار ہے کوئی اسے جیت ہار سے تعبیر نا دے۔۔۔ اگر جیت ہوئی ہے تو پاکستان کی ہوئی ہے تو پاکستان کی جیت امن میں ہے پاکستان کی جیت جمہوریت میں ہے پاکستان کی جیت قانون کی حکمرانی میں ہے پاکستان کی جیت اپنے اداروں پر اعتماد میں ہے۔‘‘

واضح رہے کہ پیر کو حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی ریلی اور پولیس کے درمیان موٹر وے پر مختلف مقامات پر جھڑپیں ہوئیں۔

صوبہ خیبر پختونخواہ کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی قیادت میں ایک ریلی اسلام آباد کی جانب سفر کر رہی تھی کہ اس میں شامل افراد نے سڑک بند کرنے کے لیے رکھے گئے کنٹینر ہٹانے کی جب کوشش کی تو پولیس کی طرف سے اُن پر آنسو گیس کے شیل فائر کیے گئے۔

خیبر پختونخواہ سے عمران خان کی جماعت کے کارکنوں کو وفاقی دارالحکومت پہنچنے سے روکنے کے لیے موٹر وے اور دیگر سڑکوں کو کنٹینر کھڑے کر کے بند کرنے کے علاوہ مٹی کے بڑے بڑے ڈھیر بھی لگا دیئے گئے تھے۔

XS
SM
MD
LG