رسائی کے لنکس

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر کے سرحدیں بند کرنے کے احکامات دے دیئے۔

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں پرتشدد حملوں میں 120 افراد کی ہلاکت کے بعد ملک میں ہنگامی صورت حال نافذ کر کے سرحدیں بند کر دی گئی ہیں۔

حکام کے مطابق پیرس کے مختلف علاقوں میں خود کار ہتھیاروں سے فائرنگ اور دھماکوں کے باعث درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔

عہدیداروں کے مطابق تقریباً 100 افراد کو صرف پیرس کے بٹاکلان تھیٹر میں حملہ کر کے ہلاک کیا گیا۔ شدت پسندوں نے تھیٹر میں کئی لوگوں کو یرغمال بنایا لیا تھا لیکن پولیس نے عمارت میں کارروائی کر کے یہ محاصرہ ختم کروایا اور اس دوران دو حملہ آور بھی مارے گئے۔

بٹاکلاں تھیٹر میں لگ بھگ ایک ہزار افراد موجود تھے جو ایک امریکی بینڈ کی پرفارمنس دیکھنے آئے تھے۔

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے کہا کہ وہ ایمرجنسی نافذ کر کے ملک کی سرحدیں بند کرنے کے احکامات دے رہے ہیں، اکیسویں صدی میں یورپ میں یہ غیر معمولی اقدام ہے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ اُن کا ملک اس وقت فرانس کی ہر طرح سے مدد کے لیے تیار ہے۔

اس حملے کی کسی نے فوری طور پر ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔۔

بٹاکلاں تھیڑ ہال میں موجود ایک عینی شاہد نے کہا کہ حملہ آوروں نے لوگوں پر بار بار گولیاں برسائیں اور اپنے اسلحے میں گولیاں بھرنے کے لیے صرف تین بار وقفہ کیا۔ وہ عینی شاہد خارجی راستے کے قریب تھا اس لیے وہ وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔

کئی ہلاکتیں پیرس کے دیگر مقامات میں بھی ہوئیں۔ ابتدائی دھماکوں میں سے ایک اسٹیڈیم کے باہر ہوا جہاں صدر فرانسوا اولاند اور بڑی تعداد میں شائقین فرانس اور جرمنی کے درمیان فٹبال کا میچ دیکھ رہے تھے۔

دھماکے کی آواز اسٹیڈیم کے اندر بھی سنائی دی، اس علاقے میں کئی دھماکے ہوئے اور عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اُن میں سے ایک کم از کم ایک خودکش بم حملہ تھا۔

پولیس اسٹیڈیم سے صدر اولاند کو وہاں سے بحفاظت نکال کر لے گئی۔

پیرس کے مصروف وسطی علاقوں میں ریسٹورانوں اور بارز پر بھی حملے کیے گئے جہاں حملہ آوروں نے لوگوں پر فائرنگ کی۔

حملوں کے بعد پیرس میں لوگوں سے کہا گیا کہ وہ اپنے گھروں میں ہی رہیں اور باہر نا نکلیں، اطلاعات کے شہر میں فوج تعینات کر دی گئی ہے۔

ان حملوں کی عالمی سطح پر شدید مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔

XS
SM
MD
LG