رسائی کے لنکس

logo-print

پیرس کی مسجد کا 'مسلم فاؤنڈیشن' سے علیحدگی کا اعلان


پیرس کی مسجد کے ایک عہدیدار سلمان نادر نے کہا کہ "ہمیں ریاست کی طرف سے کسی تنظیم کے قیام پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن اس کا صدر ایک مسلمان ہونا چاہیے اور (اس کا فیصلہ) مسلمانوں کی مشاورت سے ہونا چاہیئے۔"

پیرس کی با اثر جامع مسجد نے سرکاری سر پرستی میں قائم مسلم فاؤنڈیشن سے علیحدہ ہونے کا اعلان کیا ہے۔

یہ جامع مسجد فرانس کی 2,500 مساجد اور مسلم تنظمیوں میں سے 10 فیصد کی نمائندگی کرتی ہے اور اس نے دیگر مسلم گروپوں سے بھی ایسا ہی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے فرانسیسی حکام کی طرف سے نگرانی کی کوششوں کو مسترد کرنے کا کہا ہے۔

اگرچہ ناقدین کا کہنا ہے کہ مسجد کی طرف سے ایسے اقدام کی وجوہات کچھ اور ہیں۔

’فاؤنڈیشن فار اسلام‘ باضابطہ طور پر گزشتہ دسمبر میں قائم کی گئی تھی جس کا مقصد ثقافتی اور تعلیمی امور پر توجہ دینا ہے جب کہ اماموں کی تربیت اور مساجد کو مالی وسائل فراہم کرنے کے معاملات کی ذمہ داری ایک الگ ادارے کی ہو گی۔

تاہم اس فائڈیشن کی سربراہی کے لیے سابق وزیر داخلہ77 سالہ شان پیئر، جو کیتھولک ہیں، کے انتخاب کی وجہ سے تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔

اگرچہ شان پئیر نے ساحل سمندر پر مسلمان خواتین کے برکینی پہننے اور یونیورسٹیوں میں نقاب اوڑھنے پر پابندی عائد کرنے کی مخالفت کی ہے تاہم مسلمانوں کو دور اندیشی سے کام لینے کا کہنے پر انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

پیرس کی مسجد کے ایک عہدیدار سلمان نادر نے کہا کہ "ہمیں ریاست کی طرف سے کسی تنظیم کے قیام پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن اس کا صدر ایک مسلمان ہونا چاہیے اور (اس کا فیصلہ) مسلمانوں کی مشاورت سے ہونا چاہیے۔"

" ہم نہیں چاہتے کہ اسے اوپر سے مسلط کیا جائے۔"

گزشتہ نومبر میں غیر ملکی نامہ نگاروں سے انٹرویو کے دوران شان پیئر نے کہا کہ ان کی تعیناتی کا مقصد نظام کو بہتر کرنا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اکثر تنظیمیں اب بھی اپنے آبائی ملکوں سے منسلک ہیں، مثال کے طور پر پیرس کی 90 سالہ قدیم مسجد الجزائر کی حکومت سے مالی معاونت حاصل کرتی ہے۔

یہ تنظیم ایک ایسے وقت قائم کی گئی جب فرانس میں ہونے والے دہشت گردی کے متعدد واقعات اور سینکڑوں کی تعداد میں ایک بڑی تعداد میں عسکریت پسندوں کے مشرق وسطیٰ جانے کی وجہ سے فرانس کی پچاس لاکھ سے زائد مسلمان کی توجہ کا مرکز بنے۔

XS
SM
MD
LG